خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 90

خطبات مسرور جلد 12 90 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء کرتے تو کبھی سے اُن کی آنکھیں کھل جاتیں اور میں ان کو ایک کثیر انعام دینے کو تیار تھا اگر وہ دنیا میں کوئی نظیران پیشگوئیوں کی پیش کر سکتے۔محض شرارت سے یا حماقت سے یہ کہنا کہ فلاں پیشگوئی پوری نہ ہوئی ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ ایسے اقوال کو خباثت اور بدظنی کی طرف منسوب کر یں۔اگر کسی مجمع میں اسی تحقیق کے لئے گفتگو کرتے تو ان کو اپنے قول سے رجوع کرنا پڑتا یا بے حیا کہلانا پڑتا۔ہزار ہا پیشگوئیوں کا ہو بہو پورا ہو جانا اور اُن کے پورا ہونے پر ہزار ہا گواہ زندہ پائے جانا یہ کچھ تھوڑی بات نہیں ہے۔گو یا خدائے عز وجل کو دکھلا دینا ہے۔کیا کسی زمانہ میں باستثنائے زمانہ نبوی کے کبھی کسی نے مشاہدہ کیا کہ ہزار ہا پیشگوئیاں بیان کی گئیں اور وہ سب کی سب روز روشن کی طرح پوری ہو گئیں اور ہزار ہا لوگوں نے ان کے پورے ہونے پر گواہی دی۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس زمانہ میں جس طرح خدا تعالیٰ قریب ہو کر ظاہر ہو رہا ہے اور صد ہا امور غیب اپنے بندہ پر کھول رہا ہے۔اس زمانہ کی گزشتہ زمانوں میں بہت ہی کم مثال ملے گی۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحه 7-6) جن پیشگوئیوں کے بارے میں آپ نے نزول مسیح کا ذکر فرمایا، اس میں سے تین چار میں نے نمونے کے طور پر رکھی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ: يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْك دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 517 “ ترجمہ یہ ہے کہ ” اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی جاوے گی۔بلاغت اور فصاحت اور حقائق اور معارف تجھے عطا کئے جاویں گے۔سو ظاہر ہے کہ میری کلام نے وہ معجزہ دکھلایا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکا۔اس الہام کے بعد ہیں ۲۰ سے زیادہ کتابیں اور رسائل میں نے عربی بلیغ فصیح میں شائع کئے مگر کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔خدا نے ان سے زبان اور دل دو نو چھین لئے اور مجھے دے دیئے۔“ نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 510) پھر آپ ایک اور پیشگوئی کے ذکر میں فرماتے ہیں: وَقَالُوا أَثْى لَكَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ يُوثَرُ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً لَا يُصَدِّقُ السَّفِيهُ إِلَّا سَيْفَةَ الْهَلَاكِ۔عَدُوٌّ لّى وَ عَدُوٌّ لكَ قُلْ أَنِّي أَمْرُ اللهِ فَلَا 66 تَسْتَعْجِلُو۔دیکھو صفحہ 518-519 براہینِ احمدیہ۔“ اور ترجمہ اس کا یہ ہے۔اور کہتے ہیں کہ یہ مقام تجھے کہاں سے ملا یہ تو ایک فریب ہے۔ہم تیرے پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو نہ دیکھ لیں۔یہ لوگ تو بجز موت کے نشان کے کبھی مانیں گے