خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد 12 88 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء مراتب عالیہ سے انکار کر کے اس عالی جناب کی شان کی نسبت پر خبث کلمات مونہہ پر لاتے ہیں اور اس افضل البشر پر ناحق کی تہمتیں لگاتے ہیں اور بباعث غایت درجہ کی کور باطنی کے اور بوجہ نہایت درجہ کی بے ایمانی کے اس بات سے بے خبر ہو رہے ہیں کہ دنیا میں وہی ایک کامل انسان آیا ہے جس کا نور آفتاب کی طرح ہمیشہ دنیا پر اپنی شعائیں ڈالتا رہا ہے اور ہمیشہ ڈالتا رہے گا۔اور تا ان تحریرات حقہ سے اسلام کی شان وشوکت خود مخالفوں کے اقرار سے ظاہر ہو جائے۔اور تا جو شخص سچی طلب رکھتا ہو اس کے لئے ثبوت کا راستہ کھل جائے۔اور جو اپنے میں کچھ دماغ رکھتا ہو اس کی دماغ شکنی ہو جائے۔اور نیز ان کشوف اور الہامات کے لکھنے کا یہ بھی ایک باعث ہے (جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات ہیں ) کہ تا اس سے مومنوں کی قوت ایمانی بڑھے اور ان کے دلوں کو تثبت اور تسلی حاصل ہو۔اور وہ اس حقیقت حقہ کو بہ یقین کامل سمجھ لیں کہ صراط مستقیم فقط دین اسلام ہے اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تا شیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔اور ایک باعث ان کشوف اور الہامات کی تحریر پر اور پھر غیر مذہب والوں کی شہادتوں سے اس کے ثابت کرنے پر یہ بھی ہے کہ تا ہمیشہ کے لئے ایک قومی حجت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے اور جو سفلہ اور ناخدا ترس اور سیاہ دل آدمی ناحق کا مقابلہ اور مکابرہ مسلمانوں سے کرتے ہیں“۔(اپنی برابری یا بڑائی جتاتے ہیں ) ” ان کا مغلوب اور لاجواب ہونا ہمیشہ لوگوں پر ثابت اور آشکار ہوتا رہے اور جو ضلالت اور گمراہی کی ایک زہر ناک ہوا آج کل چل رہی ہے اس کی زہر سے زمانہ حال کے طالب حق اور نیز آئندہ کی نسلیں محفوظ رہیں۔کیونکہ ان الہامات میں ایسی بہت سی باتیں آئیں گی جن کا ظہور آئندہ زمانوں پر موقوف ہے۔پس جب یہ زمانہ گزر جائے گا اور ایک نئی دنیا نقاب پوشیدگی سے اپنا چہرہ دکھائے گی اور ان باتوں کی صداقت کو جو اس کتاب میں درج ہے بچشم خود دیکھے گی تو ان کی تقویت ایمان کے لئے یہ پیشین گوئیاں بہت فائدہ دیں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 555 تا 558 بقیه حاشیه در حاشیہ نمبر 3)