خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد 12 547 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء اچھی ہیں۔پھر ایک دوست نے لکھا کہ میں نے اپنے غیر احمدی دوستوں کے ساتھ جلسہ سالانہ کی کارروائی دیکھی اور وہ بڑے متاثر ہوئے۔نائیجیریا کے ٹیلیویژن نے بھی اس دفعہ یہ پروگرام دکھایا اور اس ٹی وی کے دیکھنے والے جو ہیں ان کی بھی بہت بڑی viewership ہے۔ان کا خیال ہے کہ ملین کی تعداد میں لوگوں نے جلسہ کی تقاریر دیکھیں اور سنیں۔یہ اس میڈیا کے علاوہ ہے جس کا پریس کے تعلق میں ذکر ہو چکا ہے۔پھر اس سال ایم ٹی اے کی لائیو سٹریمنگ کے ذریعہ سے بھی آخری دن جو انٹرنیٹ پر دیکھا جاتا ہے تین لاکھ تیس ہزار لوگوں نے جلسے کی کارروائی دیکھی۔اور باقی دنوں میں بھی گزشتہ سالوں کی نسبت کئی ہزار کی تعداد زیادہ تھی۔اور ایم ٹی اے پر جو دیکھتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہے۔پس یہ تاثرات بھی آپ نے سنے۔کوریج کا حال بھی سنا۔لیکن ہمیں یہ ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ یہ باتیں ہمارے قدم آگے بڑھانے کے لئے مزید جوش پیدا کرنے والی ہونی چاہئیں نہ کہ اس بات پر خوش ہو کے ہم بیٹھ جائیں کہ بہت کچھ حاصل کر لیا۔ترقی کرنے والی قومیں خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتی ہیں۔ہمیں پتا ہے اور اس طرف نظر رکھنی چاہئے کہ ہماری بعض کمزوریاں بھی ہیں۔بڑے پیمانے پر انتظامات میں کمزوریاں ہو جاتی ہیں اور رہ جاتی ہیں یہ کوئی ایسی بات نہیں لیکن بہر حال ان کو دُور کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ان سب کمزوریوں کو نوٹ کر کے انتظامیہ کو چاہئے کہ اگلے سال ان کا حل کریں، ان کا مداوا کریں اور یہ کمزوریاں صرف کارکنان کی وجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ بعض ضدی شامل ہونے والے جو لوگ ہوتے ہیں اور ان کے رویے جو ہوتے ہیں وہ بھی بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں اس لئے ان کے لئے بھی انتظام ہونا چاہئے۔ان کو بھی اصلاح کر کے آنا چاہئے۔مثلاً عورتوں کی طرف سے ایک بات مجھے پہنچی کہ عورتوں کی مین مارکی میں ایک عورت بچے کو لے کے بیٹھی تھی تو کارکنہ نے اسے کہہ دیا کہ یہاں بچوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے تو اس نے کہا ٹھیک ہے۔مجھے پتا نہیں تھا۔چلی جاتی ہوں۔بعد میں اسی کارکنہ کو پتا لگا کہ عورت جو بیٹھی ہوئی ہے یہ احمدی نہیں، غیر از جماعت ہے تو اس نے جاکے اس سے معذرت کی کہ آپ کا بچہ اگر شور نہیں کر رہا تو ٹھیک ہے آپ بیشک بیٹھی رہیں۔لیکن ساتھ بیٹھی ہوئی ایک احمدی خاتون نے ان سے لڑنا شروع کر دیا کہ ہمیں تکلیف نہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے اور اس طرح کی باتیں کیں۔اب شکر ہے کہ کارکنہ کو تو عقل آ گئی کہ اس نے زیادہ بات کو آگے نہیں بڑھایا اور چپ کر کے وہاں سے چلی گئی۔لیکن پھر وہ خاتون پوچھنے لگی کہ کیا یہ حدیث ہے