خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 457
خطبات مسرور جلد 12 457 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء بڑھ کر ہو گا اور اگر اس میں کہیں رخنے پیدا ہو رہے ہیں، دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں تو ہم فوری طور پر انہیں بھریں گے۔رُحماء بينهم کی مثال بن کر لیلتہ القدر کا حقیقی فیض پائیں گے۔پس اس رمضان میں ہمیں یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ آپس کی انفرادی رنجشیں بھی ختم کریں تا کہ انفرادی طور پر لیلتہ القدر سے فیض پاسکیں اور لیلتہ القدر کے جو پھل، جو کامیابیاں، جو ترقیاں، جو انعامات جماعتی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہیں ان سے بھی ہم حصہ لے سکیں۔ہمیں یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بڑھ رہی ہے اسی تیزی سے دشمن بھی ہمارے لئے روکیں اور مشکلات کھڑی کرے گا اور کر رہا ہے۔ابتلا میں ڈالنے کی کوشش کرے گا اور کر رہا ہے اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ صرف چند ملکوں میں یہ محدود ہے۔حسد کی آگ ترقی کو روکنے کے لئے اپنی پوری کوشش کرتی ہے اور ہر جگہ یہ کرے گی لیکن لیلتہ القدر کے آنے کی خوشخبری ہمیں ان کے بداثرات سے بچنے اور جماعتی ترقی کے لئے کی گئی دعاؤں کی قبولیت کا بھی پتا دے رہی ہے۔پس جب تک ہم اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے چلے جائیں گے لیلتہ القدر سے بھی فیض پاتے رہیں گے۔مومنین کا مقصد اور کوشش اور خواہش یہ ہوتی ہے کہ جماعت کی ترقی کو اس اعلیٰ معراج پر دیکھیں جس کے وعدے خدا تعالیٰ نے کئے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب ہو کر ہمیں اس طریق سے ان ترقیات کا حصہ بننے کی کوشش کرنی چاہئے جو حضرت مسیح موعود یہ السلام نے ہمیں بتایا ہے اور وہ طریق ان دو باتوں میں آجاتا ہے جو آپ نے اپنی بعثت کے مقصد کے بارے میں ہمیں بتائی ہیں۔یعنی ایک یہ کہ بندے کو خدا سے ملا دیا جائے اور دوسرے یہ کہ انسان کو دوسرے انسان کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا بنایا جائے۔پس یہ دو کام ہیں جو ہمارے ذمہ ہیں کہ اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بھی اونچا کریں اور اپنے اختلافات اور جھگڑوں کو مٹا کر ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ کریں۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ حق ادا ہور ہے ہوں اور پھر رنجشیں بھی قائم ہوں، اختلافات بھی قائم ہوں۔پس اس اصول پر اگر ہم چلتے رہے تو لیلتہ القدر کی حقیقت کو سمجھنے والے بھی ہوں گے اور اس کو پانے والے بھی ہوں گے۔لیلتہ القدر کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ اس طرح بھی تعریف فرمائی ہے۔فرمایا کہ لیلتہ القدر انسان کے لئے اس کا وقتِ آصفی ہے۔( الحکم جلد 5 نمبر 32۔مورخہ 31 اگست 1901ء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد چہارم ( زیر سورۃ القدر ) صفحہ ،، 673 مطبوعہ ربوہ)