خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 384
خطبات مسرور جلد 12 384 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014 ء پھر ایک اور دوست ہیں جو اٹلی میں ہیں، وہاں نمازیں پڑھایا کرتے تھے۔بیعت کر لی تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔اس بات پر پریشان تھے۔میں نے انہیں کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نماز پڑھانے کے لئے چنا ہے۔پہلے تو آپ ایسے لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے جو مومن نہیں تھے۔بہر حال ایک خوبصورت ماحول میں اچھی باتیں وہاں ہوتی رہیں۔ہر ایک اچھا اثر لے کے گیا۔پر لیس اور میڈیا نے بھی مساجد کے افتتاح کی، جلسہ سالانہ کی کافی کوریج دی ہے۔اس کے مطابق ساٹھ سے زائدر پورٹس اور خبریں مختلف چینلوں میں آئی ہیں۔اخبارات کے علاوہ چارٹی وی چینلز، چار ریڈیو سٹیشن بھی اس میں شامل ہیں۔اور جماعت کا ایک اندازہ ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ مجموعی طور پر سینتیس ملین (37million) افراد تک پیغام پہنچا ہے۔پس یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی خاص تائید کا اظہار کرتی ہیں۔یہ باتیں تو ہوگئیں جو جلسہ اور مساجد کے افتتاح یا سنگ بنیاد کی تقریبات کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہمیں دکھاتی ہیں۔اب میں بعض باتیں وہ بھی کرنا چاہتا ہوں جو ہمیں اپنے جائزوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہیں۔جہاں ہمیں اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے اور ہوتے ہیں کہ وہ کس کس طرح اپنی تائیدات اور نصرت کے نظارے دکھاتا ہے وہاں ہمیں اس بات کی بھی فکر ہونی چاہئے کہ کہیں ہم میں سے کسی ایک کی بھی کوئی ایسی حرکت یا ہماری شامت اعمال اسے ان فضلوں کا حصہ بننے سے محروم نہ کر فہ دے۔دوسروں کو تو عموماً خوبیاں نظر آتی ہیں لیکن ہمیں اپنی کمی اور خامیوں کی طرف بھی نظر رکھنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کس طرح ہم اپنی حالتوں اور اپنے کاموں کو بہتر کر سکتے ہیں۔خاص طور پر عہد یداران اور ان میں سے بھی خاص طور پر نیشنل عاملہ کے عہد یداران اور مرکزی کارکنان کو اس جائزے کی ضرورت ہے۔وہاں بعض باتیں ایسی توجہ طلب تھیں یا خامیاں اور کمزور یاں تھیں ( کہ جن کی طرف میں نے جب توجہ دلائی ) تو اس کے بعد جرمنی کے امیر صاحب نے مجھے یہ لکھ دیا کہ ہم میں جو کمزوریاں رہ گئی ہیں اس کے لئے معذرت اور معافی۔لیکن یہ لکھ دینا کافی نہیں جب تک سارا سال ان باتوں کے جائزے نہ لیں اور عملی طور پر اس کی درستی کے سامان نہیں کرتے ، اس معذرت کا کوئی فائدہ نہیں۔معذرتیں اور معافیاں تو کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔اصل چیز اصلاح ہے اور عملی کوشش ہے۔