خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 141

خطبات مسرور جلد 12 141 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014 ء محفل کی خاص بات یہ ہے کہ دنیا بھر سے مختلف مذاہب کے نمائندگان اکٹھے ہو کر دنیا میں امن کے قیام کے لئے بات کر رہے ہیں۔اس کے بعد اسرائیل کے ایک رہائی (Rabbai) ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں ظاہری ترقی کو ایک بہت بلند کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔اور امیروں اور غریبوں کے درمیان معاشی فرق خوفناک حد تک بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ترقی اور آسائش کے نام پر ہم دنیا کی نعمتوں کو اسراف کی حد تک خرچ کرتے جارہے ہیں۔تازہ پانیوں کو گندہ کر رہے ہیں۔جنگلات کو تباہ کر رہے ہیں۔ہم جس دور میں رہ رہے ہیں یہاں ہر طرف مذہبی اور سیاسی کشمکش جاری ہے اور فساد برپا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام اور اس کی دی ہوئی ہدایت کو پامال کیا جا رہا ہے اور اس سب کارروائی کو سمجھداری اور مصلحت اور سیاسی مجبوریوں کا نام دے دیا جاتا ہے۔آئیے ہم سب مل کر اس کے خلاف کام کریں۔اللہ کرے کہ یہ جو ان کی باتیں ہیں وہ ان کے جو سر براہانِ حکومت ہیں اُن کو بھی سمجھ آنے والی ہوں اور یہ لوگ اُن کو بتانے والے بھی ہوں۔بعض سیاسی لوگوں کے بھی پیغامات تھے اور خطاب تھے۔گھانا کے صدر مملکت کا پیغام اُن کے ایک ہائی کمشنر نے پڑھ کر سنایا، ویسے اُن کے ایک نمائندے بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے لکھا کہ ہمیں اس موقع پر ایک مرتبہ پھر یہ باور کرایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر دنیا میں بھیجے جنہوں نے دنیا میں موجود تمام رنگ ونسل کے لوگوں کو بلا تفریق یہ پیغام دیا کہ انسان کو پر عزم ہمنظم اور باہمی رواداری کے طریقوں سے زندگی گزارنی چاہئے۔اور پھر اپنا لکھا ہے کہ گھانا میں نیشنل پیس کونسل کا قیام ہوا ہے اور مذہبی رواداری ہے اور ہر ایک کو نمائندگی حاصل ہے۔پھر یہاں کی بیرونس سعیدہ وارثی صاحبہ ہیں۔یہ بھی آئی ہوئی تھیں۔یہ کہتی ہیں آج اس عظیم الشان ہال میں جلسہ مذاہب عالم کے لئے جمع ہونے والے معزز مہمانوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا میرے لئے ایک اعزاز ہے۔یہ کانفرنس جماعت احمدیہ کی وسعت حوصلہ، کشادہ دلی، کشادہ نظری اور اعلی ظرفی کی آئینہ دار ہے کہ آپ لوگوں نے عالمی نوعیت کی ایک ایسی تقریب کا انعقاد کیا ہے جس میں صرف اپنی جماعت کے عقائد پیش کرنے کی بجائے تمام مذاہب کے نمائندگان کو اپنا اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ہمیں برطانیہ کے طول و عرض میں محض انسانیت کی بنیاد پر جماعت احمدیہ کی طرف سے کئے گئے فلاحی کاموں کے اثرات نظر آتے ہیں۔پھر کہتی ہیں اس جلسے کے کامیاب انعقاد سے