خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد 11 616 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء کی ذمہ داری صدر جماعت اور مشنری انچارج کی ہے کہ وہ ایک باپ کا کردار ادا کرے اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش میں لگار ہے۔اپنے عہدہ کے لحاظ سے بھی ، اپنے علم کے لحاظ سے بھی سب سے بڑی ذمہ داری اُسی کی ہے اور وہ اس کے لئے پوچھا جائے گا۔لاعلمی ہو، بے علمی ہو، کم علمی ہو تو اور بات ہے لیکن جب سب کچھ ہو اور پھر اُس پر عمل نہ ہو تو زیادہ سوال جواب ہوتے ہیں۔اور افراد جماعت میں سے بھی ہر ایک جو ہے وہ اپنے جائزے لے۔پھر ہر جماعتی عہدیدار کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اپنے عہدوں کا حق ادا کر رہا ہے؟ کیا کہیں اس حق کے ادا نہ کرنے سے وہ جماعت میں بے چینی تو نہیں پیدا کر رہا؟ پھر ذیلی تنظیموں کے عہدیدار ہیں، اُن کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ہر ایک اپنی امانتوں اور عہدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کس حد تک تم نے ادا کئے۔اجلاسوں میں، جلسوں میں جو پروگرام ہیں، وہ جاپانی زبان میں ہونے چاہئیں۔یہ بھی مجھے بعض شکوے پہنچتے ہیں کہ جو جاپانی چند ایک ہیں اُن کو سمجھ نہیں آتی کہ اجلاسوں میں کیا ہو رہا ہے۔جن عورتوں کو یا مردوں کو جاپانی زبان اچھی طرح سمجھ نہیں آتی اُن کے لئے اردو میں ترجمہ کا انتظام ہو۔نہ کہ اردو پروگرام ہوں اور جاپانی میں ترجمے ہوں۔یہاں بات الٹ ہونی چاہئے۔سارے اجلاسات جاپانی میں ہوں اور ترجمہ اردو میں ہو۔جاپانی احمدیوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے پروگراموں کا حصہ بنائیں، ان سے تقریریں بھی کروائیں، ان کو نظام بھی سمجھا ئیں اور ان سے دوسری خدمات بھی لیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا، اب ایک نئی مسجد انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی بن جائے گی ، اس سے تبلیغ کے مزید راستے کھلیں گے۔ان راستوں پر ہر احمدی کو نگران بن کر کھڑا ہونا پڑے گا تا کہ جو ان راستوں پر چلنے کے لئے آئے ، جو ان کی تلاش کرنے کی کوشش کرے، وہاں ہر پرانا احمدی جو احمدیت کے بارے میں علم رکھتا ہے راہنمائی کے لئے موجود ہو۔اور جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، یہ کام نہیں ہوسکتا اگر ہر ایک کا خدا تعالیٰ سے تعلق قائم نہ ہو، اُس احد خدا کی عبادت کا حق نہ ہو جس کے نام پر یہ مسجد بنائی جا رہی ہے، اُس احد خدا کی غنی کا ادراک نہ ہو جس کا کسی سے رشتہ نہیں۔اُس کے لئے معزز وہی ہے جو تقویٰ پر چلنے والا ہے، عبادتوں کا حق ادا کرنے والا ہے اور اعمالِ صالحہ بجالانے والا ہے، مخلوقِ خدا کی رہنمائی اور اُسے خدا تعالیٰ کے حضور جھکانے کی کوشش کرنے والا ہے۔آپس میں ایسے مومن بن کر رہنے والا ہے جور حماءُ بَيْنَهُمْ کی مثال ہوتے ہیں۔پس ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ صرف عہدیداران کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہر احمدی مرد، عورت، جوان، بوڑھے کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف عہدیداروں کی غلطیاں نکالنے پر مصروف نہ ہو