خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 551 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 551

خطبات مسرور جلد 11 551 41 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء خطبہ جمہ سید نا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفتہ امسح الخامس اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء بمطابق 11 اخاء 1392 ہجری شمسی بمقام میلبرن ، آسٹریلیا تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجودلوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں، کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہوگئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اُس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اُس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے، یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہوگئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔اب میرے زمانے میں بھی یہی حالت ہے۔سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں۔مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین کے نزدیک ہوگا، بعد اس کے کہ بہت دُور ہو گیا تھا۔“ ( کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 291 تا 294 حاشیہ ) پس ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا دعوی کرتے ہیں، ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس حد تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کر رہے ہیں۔آپ نے اعلان فرمایا کہ میں ایمانوں کو قوی کرنے آیا ہوں۔اُن میں مضبوطی