خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد 11 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء میں تھا جو کہ ایک مخلص احمدی ہیں۔اُن کا 2011 ء کا چندہ وقف جدید کا بجٹ ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھا اور یہ رقم سال کے آخر میں مکمل کرنے میں انہوں نے کافی تکلیف اُٹھائی تھی اور بہت مشکل سے اس کو ادا کر پائے تھے۔انہوں نے اس سال اپنا بجٹ اپنی خوشی سے پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے لکھوایا۔کہتے ہیں اس پر مجھے ایک عجیب ڈر پیدا ہوا کہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار کا بجٹ بہت مشکل سے آخری دنوں میں ادا کیا تھا، اور اُس سے تین گنا اضافہ بجٹ کیسے پورا کریں گے؟ بہر حال مکرم ناظم صاحب ساتھ تھے۔اس لئے لکھنے کے علاوہ مجھے کچھ چارا نہیں تھا۔کہتے ہیں کھانا کھانے کے بعد دعا کر کے ہم لوگ وہاں سے نکل گئے۔ہم لوگ مع صدر دوسرے گھر میں دعا کے لئے گئے۔کہتے ہیں کہ آدھے گھنٹے کے بعد مکرم ناظم صاحب مال کے ساتھ صدر صاحب کی کار میں جب ہم مسجد پہنچے تو مسجد کے سامنے ہی وہ صاحب کھڑے تھے۔مکرم ناظم صاحب مال اور خاکسار کا ر میں ہی بیٹھے ہوئے تھے کہ مکرم سلیمان صاحب نے آ کر پلاسٹک کا ایک لفافہ دیا اور کہنے لگے کھانے کے بعد مٹھائی بھی کھانی چاہئے۔انسپکٹر صاحب کہتے ہیں میں نے کہا کہ مولوی صاحب یعنی ناظم صاحب مال جو ہیں ان کو تو شوگر ہے۔انہوں نے مٹھائی نہیں کھانی، میں کھا لیتا ہوں۔ناظم صاحب لفافہ مجھے پکڑانے لگے تو یہ صاحب جن کا چندے کا وعدہ تھا، جو مٹھائی کھانے کے لئے لفافہ پکڑا رہے تھے، کہنے لگے کہ مولوی صاحب اس لفافے کو دیکھ کر اور دعا کر کے دیں۔خیر مولوی صاحب نے جب لفافہ کھولا تو گنگ ہو گئے۔اُن سے کچھ بولا نہ گیا۔کہتے ہیں دوبارہ میں نے اُن سے پوچھا، پھر بھی نہیں بولا گیا۔اُس کے بعد ناظم صاحب یعنی مولوی صاحب نے لفافہ ان کو دے دیا۔کہتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا تو اُس کے اندر پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے تھے۔کہتے ہیں میری آنکھوں سے تو آ نسو جاری ہو گئے اور اُن کے لئے دعائیں بھی نکلنے لگ گئیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے انتظام فرمایا اور انہوں نے یہ چندہ کی ادائیگی کی۔صدر صاحب بریمپٹن کینیڈا لکھتے ہیں کہ ایک دوست جو یوایس اے سے یہاں کینیڈا آئے تھے۔کینیڈا میں رفیوجی کلیم کیا۔اُن کا اسائلم کا کیس بھی کافی پیچیدہ ہو گیا۔انہوں نے اپنی والدہ کو جرمنی بھجوانے کے لئے پانچ ہزار ڈالر کی رقم جمع کر رکھی تھی۔جب ان سے چندے کے سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نہ صرف پانچ ہزار ڈالر کی رقم جو انہوں نے جمع کر رکھی تھی ادا کر دی بلکہ اس کے علاوہ بھی جو کچھ ان کے پاس تھا ، وہ بھی دے دیا۔خدا تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں ان کو فضلوں سے نوازا۔اُن کا اسائلم کا کیس بغیر کسی مزید دشواری کے پاس ہو گیا بلکہ اُن کی والدہ بھی ہفتہ کے بعد جرمنی کے لئے روانہ ہو گئیں۔