خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 653 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 653

خطبات مسرور جلد دہم 653 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء صاحب مرحوم ربوہ کا ہے۔جن کی وفات 15 اکتوبر کو ایک لمبی علالت کے بعد ہوئی ہے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔آپ حضرت قریشی عبدالرحمن صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیٹی تھیں۔بڑی نیک، پابند صوم و صلوۃ، توفیق سے بڑھ کر مالی قربانیوں میں حصہ لینے والی، بہت ملنسار اور مہمان نواز خاتون تھیں۔سادہ مزاج ، عاجزانہ زندگی گزارنے والی تھیں۔جلسہ کے موقع پر پاکستان میں جب جلسے ہوتے تھے تو پچاس پچاس مہمان ان کے گھر میں آکر رہتے تھے اور یہ ان سب کے لئے لنگر خانے کے علاوہ بھی کچھ نہ کچھ کھانا ضرور پکاتی تھیں۔اسی طرح ہر وقت چائے کے لئے انتظام رہتا تھا۔بعض عزیزوں کی جو بچیاں ہیں ان کی شادیوں پر جب پتہ لگتا تھا، کہ غربت کی وجہ سے اُن کے والدین کی طرف سے کوئی زیور نہیں ملا، تو اُن کو اپنا کوئی نہ کوئی زیور دے دیا کرتی تھیں۔جس کی وجہ سے اُن کے اپنے زیور بھی آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔بچوں کو ہمیشہ جماعت کی خدمت کی ترغیب دلاتی رہتی تھیں اور اس کا اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے بچے جماعت میں خدمت کی توفیق پار ہے ہیں۔موصیہ تھیں اور 1953ء میں نظام وصیت میں شامل ہونے کی توفیق پائی۔ان کے بچوں میں دو بیٹے ان کے واقف زندگی ہیں۔ایک وقف جدید میں وہاں معلم ہیں اور دوسرے عبداللہ ندیم صاحب پہلے پین میں تھے آجکل چلی میں ہیں۔وہ جنازے میں شامل بھی نہیں ہو سکے۔اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو، ان سب کو صبر اور ہمت اور حوصلہ دے۔اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے۔اسی طرح ان کے ایک پوتے ہیں وہ بھی مربی سلسلہ ہیں اور ربوہ کی نظارت اشاعت میں آجکل کام کر رہے ہیں۔اسی طرح ان کے داماد منیر جاوید صاحب ہیں وہ یہاں پرائیویٹ سیکرٹری ہیں ، تو چار افراد ان کے گھر کے واقف زندگی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اُن خواہشات کو جو ان کو اپنے بچوں کے بارے میں تھیں پورا کرے اور ان کی اولا د کونیکیوں میں بڑھائے۔مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔باقی بچیاں اور بچوں کو سب کو ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 9 تا 15 نومبر 2012 جلد 19 شماره 45 صفحه 5 تا 9)