خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 598
خطبات مسرور جلد دہم 598 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء ( یعنی جب تقریر فرماتے ) میدان میں اترتے تو بہادر ہوتے۔اُن کا مذہب صرف یہی تھا کہ خدا ایک ہے۔مذہب کا خلاصہ ایک ہی تھا کہ خدا ایک ہے۔اس سچائی کو بیان کرنے کے لئے انہوں نے نظریاتی بحثوں کو اختیار نہیں کیا بلکہ اپنے پیروکاروں کو صفائی، نماز اور روزہ جیسے امور کی تعلیم دیتے ہوئے اُن کی معاشرتی حالتوں کو عملی رنگوں میں بہتر بنایا۔اُس شخص نے صدقہ و خیرات کو باقی تمام کاموں پر فوقیت دی“۔(History of the intellectual Development of Europe by John William Draper M۔D۔, LL۔D۔, New York: Harper and Brothers, Publishers, Fraklin Square 1864, page 244) پھر ایک مشہور مستشرق ہیں William Montgomery، اپنی کتاب Muhammad at Medina میں لکھتے ہیں کہ : " محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور اسلام کی ابتدائی تاریخ پر جتنا غور کریں، اتنا ہی آپ کی کامیابیوں کی وسعت کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔اُس وقت کے حالات نے آپ کو ایک ایسا موقع فراہم کیا جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔گویا آپ اُس زمانے کے لئے موزوں ترین انسان تھے۔اگر آپ کے پاس دوراندیشی ، حکومت کرنے کی انتظامی صلاحیتیں ، تو کل علی اللہ اور اس بات پر یقین کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے، نہ ہوتا تو انسانی تاریخ میں ایک اہم باب رقم ہونے سے رہ جاتا۔مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے متعلق یہ کتاب ایک عظیم الشان ابن آدم کو سمجھنے اور اُس کی قدر کرنے میں مدد کرے گی۔“ (Muhammad At Medina by W۔Montgomery Watt, Oxford University Press Karachi۔2006, pp۔335) یہ اس سوانح نویس کی شہادت ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں مثبت رویہ نہیں رکھتا۔پھر مشہور عیسائی مؤرخ Reginald Bosworth Smith لکھتا ہے کہ ”مذہب اور حکومت کے رہنما اور گورنر کی حیثیت سے پوپ اور قیصر کی دو شخصیتیں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک وجود میں جمع تھیں۔آپ پوپ تھے مگر پوپ کی طرح ظاہر داریوں سے پاک۔آپ قیصر تھے مگر قیصر کے جاہ وحشمت سے بے نیاز۔اگر دنیا میں کسی شخص کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ اُس نے باقاعدہ فوج کے بغیر محل شاہی کے بغیر اور لگان کی وصولی کے بغیر صرف خدا کے نام پر دنیا میں امن اور انتظام قائم رکھا تو وہ