خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد دہم 394 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29 جون 2012 ء بمطابق 29 احسان 1391 ہجری شمسی بمقام ہیرس برگ (Harrisburg) پنسلوینیا(Pennsylvania)امریکہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الحمد للہ کہ آج جماعت احمدیہ امریکہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے اور مجھے آج دوسری مرتبہ اس میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے۔یہ جلسے جو ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں وہاں کی جماعتیں منعقد کرتی ہیں اُس جلسے کی تتبع میں ہیں جن کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا۔جس کا مقصد افراد جماعت کو اُن حقیقی برکات کا وارث بنانا تھا جو افراد جماعت کی دنیا و عاقبت سنوارنے کا باعث بنیں اور جن کو وہ اپنی زندگیوں کا مستقل حصہ بنا کر ان برکات کے وارث بنتے چلے جائیں اور یہ برکات حقیقی تقوی اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ میں شامل ہونے والے ہر احمدی سے اس معیار کے حاصل کرنے کی توقع کی ہے اور ان معیاروں کو حاصل کرنے کی طرف توجہ نہ دینے والوں سے سخت بیزاری کا اظہار فرمایا ہے۔پس یہ جلسہ جہاں برکتوں کا سامان لے کر آتا ہے وہاں ایک سچے احمدی کے لئے بڑے خوف کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے سال میں ایک مرتبہ ایک خاص ماحول میں رہ کر اپنی اصلاح کرنے کا موقع دیا، اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کا موقع دیا، نئے سرے سے اپنے ایمان و ایقان اور روحانیت کو صیقل اور مضبوط کرنے کا موقع دیا لیکن ان کے حصول کا حق ادا کرتے ہوئے کوشش نہیں کی گئی۔اگر کوشش کی بھی تو آئندہ اُس کو اُس مقام تک قائم نہ رکھ سکے جس پر رکھنا چاہئے تھا۔اگر جلسہ کی برکات اور فیض کا صحیح ادراک ایک احمدی کو ہو جائے اور اُس کے حصول کی کوشش بھی کرے اور پھر ہر سال جلسہ میں شامل ہونے کی وجہ سے ان برکات اور پاک تبدیلیوں کو جمع کرتا چلا جائے تو ہر سال تقویٰ میں ترقی کی نئی منزلیں ہم ہر احمدی