خطبات محمود (جلد 8) — Page 519
519 نفس کے لئے شراب کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہوئے اسلام پر اعتراض کرتے تھے کہ اس نے شراب جیسی ضروری چیز کو حرام کیا ہے وہ کس طرح پر خدا کا دین ہو سکتا ہے۔آج ان کے گھروں میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں اور حالات وقت نے ایسی صورت نمایاں کی ہے کہ خود مغربی لوگوں میں یہ تحریک پیدا ہو گئی ہے کہ شراب بند کی جائے لڑائی کے ایام میں بھی اس کی مخالفت ہوئی۔مگر اب تو بڑے زور سے یہ تحریک کی جا رہی ہے۔امریکہ قطعی طور پر قانونا شراب بند کر چکا ہے اسی طرح پر سود کے متعلق ساڑھے تیرہ سو سال کے قریب ہونے کو آئے ہیں۔قرآن مجید نے یہ حکم دیا تھا کہ سود حرام ہے اور یہ بتایا گیا تھا کہ سود جنگوں کو پیدا کرتا ہے۔اب اس کی حقیقت کھل چکی ہے۔پچھلی جنگ عظیم ہی کو لو۔اگر سود کی بلا نہ ہوتی تو اتنی دیر تک وہ جنگ جاری نہ رہ سکتی اور اب اقتصادیات کے ماہر اور فلاسفر یہ آواز بلند کر رہے ہیں کہ سود جنگ کا موجب ہوتی ہے۔جب کبھی کوئی بڑی لڑائی ہوئی ہے تو اسے سود نے لمبا کیا ہے۔اسی طرح کثرت ازدواج پر اعتراض ہوتے رہے۔اب تک بھی بعض لوگ کرتے ہیں۔مگر عورتوں کی کثرت نے جو پہلے ہی تھی۔اور اب لڑائی کے بعد اور بھی اس میں اضافہ ہو گیا ہے اس آواز کو بھی بلند کیا ہے کہ ایک سے زیادہ عورتیں کی جائیں۔کچھ شک نہیں۔یہ آواز دھیمی ہے۔مگر اٹھ رہی ہے اور وہ وقت قریب معلوم ہوتا ہے۔جب اس صداقت کو عملاً تسلیم کر لیا جائے گا۔بہت لوگ ہیں جو اس کے حامی ہیں۔مگر وہ سوسائٹی کے رسم و رواج سے ڈرتے ہوئے آواز نہیں اٹھاتے۔اسی طرح طلاق کے متعلق بھی آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ مشکلات کا علاج ہے۔امن کے ذریعہ سے جو تغیرات ہوتے ہیں۔ان کی رفتار آہستہ ہوتی ہے۔جو گاڑی تیزی سے چل رہی ہو۔اس کو یکدم نہیں روکا جا سکتا۔پس جو رو پہلے سے مغرب میں چلی ہوئی ہے۔اب اسے روکنے کے لئے ایک وقت کی ضرورت ہے۔لیکن یہ ظاہر ہے کہ تغیرات ہو رہے ہیں۔انہیں تغیرات میں سے ایک یہ مسجد بھی ہے۔سو سال پہلے یہ خیال میں بھی نہ آتا ہو گا کہ لندن میں مسجد بنائی جائے گی۔یہ خیال کرتے ہوئے مجھے بچپن کی آوازیں یاد آتی ہیں۔میری عمر اس وقت ۳۵ سال کی ہے۔اس وقت یورپ کا بڑا علاج اسلام کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ اپالوجی کی جاوے جس سے عیسائیت اور اسلام میں اتحاد ہو جائے مگر میں اس وقت یہی سمجھتا تھا اور خواہ کوئی اس وقت مجھ کو پاگل ہی کہتا۔میرے خیال میں اپالوجی کی ضرورت نہیں تھی۔میں یقین رکھتا تھا کہ اسلام پھیل جائے گا۔اور اب تو میں دیکھتا ہوں کہ اسلام پھیل رہا ہے۔اور مغرب اسلام کی طرف آ رہا ہے یہ تغیر جواب ہو رہا ہے۔معمولی نہیں ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ