خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 279

5279 47 خدمت دین کا زمانہ (فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خطبہ کا یہی طریق تھا کہ جمعہ کی نماز جو دو رکعت ہوتی ہے اس کی نسبت مختصر ہوتا تھا مگر اس زمانہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کو خطبہ لمبا کیا جاتا ہے۔مختصر خطبہ پڑھنا سنت یا فرض نہیں کیونکہ عرب میں رواج یہ تھا کہ بڑی سے بڑی نصیحت کو چھوٹے سے چھوٹے فقرے میں ادا کرتے تھے۔اور لمبی سے لمبی بات کو ضرب المثل کے طور پر بیان کر دیتے تھے۔ہمارے ملک میں لوگ لمبی گفتگو سے مطلب سمجھتے ہیں مگر عرب میں کوشش کی جاتی تھی کہ وسیع مضمون کو دو جملوں میں ادا کیا جائے۔چونکہ خطبہ سے غرض اصلاح ہے اس لئے ملک کی حالت کو مد نظر رکھ کر لمبا خطبہ بیان کرنا پڑتا ہے مگر جس طرح چھوٹا خطبہ پڑھنا فرض نہیں اسی طرح لمبا خطبہ پڑھنا بھی فرض نہیں۔چونکہ آج خطبہ کے بعد جلسہ کا بقیہ حصہ ہوگا اس لئے مختصر خطبہ پڑھتا ہوں کیونکہ ممکن ہے جلسہ کی تقریر لمبی ہو جائے۔جمعہ کو مسیح موعود سے ایک مشابہت ہے زمانہ کے مختلف دور ہیں۔ایک دور وہ ہے جس کے لحاظ سے وہ ساتویں ہزار کا زمانہ ہے۔میں زمانہ کے دور اس لئے کہتا ہے ہوں کہ بعض لوگ غلطی سے دنیا کی عمر صرف سات ہزار سال کہتے ہیں۔پس دنیا کے دوروں میں سے اس دور کا ساتواں ہزار ہے۔یہ دور آخری ہے یا نہیں اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔بہر حال یہ ساتواں دور ہے۔اور صحیح موعود کی بعثت ساتویں ہزار کے لئے ہے۔اور ہفتہ کے ساتھ میں دن جمعہ کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص عبادت کا حکم دیا ہے۔اس دن دو طرح کی عبادت کی جاتی ہے۔ایک روزانہ عبادت جو لوگ کرتے ہیں اور ایک جمعہ کی اور دونوں کو ملا کر ایک کر دیا جاتا ہے۔اس دن ایک علاقہ کے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور عبادت الہی میں مصروف ہوتے ہیں گویا یہ دور جو مسیح موعود کے زمانہ کا دور ہے۔تبلیغ و اشاعت کا دور ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تکمیل۔