خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 568

(104) سرچشمہ ہدایت کی قدر کرو اور فساد کی راہوں سے بچو فرموده - دسمبر ۹ حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ اور آیت شریفہ وَلَا تُفْسِدُ وَانِي الْأَرْضِ بَعْدَ اِصلاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمُعَاء إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف (٥٠) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔انسانی اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کا اثر صرف کرنے والوں تک محدود ہوتا ہے۔اور ایک وہ عمل ہوتے ہیں جن کا اثران دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔جو اس فعل میں شامل نہ ہوں۔ان دو نو سم کے کاموں میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔جو شخص نماز پڑھتا ہے۔اس کی نماز کا اثر اس شخص کی ذات تک ہے۔مگر جو زکواۃ دیتا ہے۔اس زکوۃ دینے والے گا اثر اسی کی ذات تک محدود نہیں۔بلکہ دوسروں پر بھی پڑتا ہے کیونکہ جب تک لینے والا نہ ہو کر دی ہی نہیں جاسکتی۔پھر بدلنی کا اثر مض بدلنی کرنے والے کی ذات تک محدود ہے یا مثلاً کوئی شخص شرک کرتا ہے اگرچہ شرک بڑا گناہ ہے۔مگر اس کا اثر دوسروں پر کچھ نہیں پڑتا۔لیکن اگر کوئی چوری کرے تو چوری کا فعل چور کی ذات ین ہی نہیں۔بلکہ جن کے ہاں چوری ہوتی ہے۔ان پر بھی اثر ڈالتا ہے یا قتل ہے۔اس کا اثر بھی دوسرے پر پڑتا ہے۔بلنی کبھی بری ہے اور قل یا چوری بھی بڑی ہے ، لیکن فرق ان میں یہ ہے کہ ایک فعل کا اثر صرف کرنے والے کی ذات تک محدود ہے اور دوسرے کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے۔اس لیے ایسے اعمال جن کا دوسروں کی ذات پر بھی اثر پڑے۔اونی ہو کر خطرناک ہوتے ہیں اچھی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص اپنا ایک لاکھ روپیہ ضائع کردے اور ایک دوسرا شخص پچاس شخصوں کا ایک ایک روپی کوردی