خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 554

(102) کامیابی خدا پر توکل رکھنے والوں کیلئے بہئے فرموده ۲۶ نومبر ۱۹۲۰ تشتد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آیت إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَ هَؤُلاَءِ دِينُهُم ، وَمَنْ يَتَوَكَّلُ، عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ - (الانفال (٥٠) د پڑھ کر حضور نے فرمایا : انسان کی عادت ہے کہ جب کبھی و کسی نیکی کے اختیار کرنے سے باز رہتا اور کسی مفید بات کو رد کرتا ہے۔تو اس کی ضمیر اس کو ملامت کرتی ہے اور وہ ملامت باقی تمام تکالیف سے بڑھ کر ہوتی ہے۔انسان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، مگر نفس کی علامت کو برداشت نہیں کر سکتا۔جب نفس ملامت شروع کرتا ہے تو انسان عذرات تلاش کرتا ہے۔وہ خذرات لوگوں کے لیے نہیں ہوتے۔نان عذرات سے لوگوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔نہ خوش کرنا چاہتا ہے۔بلکہ وہ محض اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔دوسروں کے لیے بھی ہوتے ہیں۔کیونکہ انسان بالطبع چاہتا ہے کہ لوگ اس کی مذمت نہ کریں۔بلکہ تعریف کریں مگر بہت بڑی زد جو خود انسان کے اپنے نفس کی ہوتی ہے اس سے بچنے کے لیے عذرات گھڑتا ہے اور جان بچانا چاہتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کے واقعہ کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتا ہے۔اذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرض غر هؤلاء دينهم - اسلام قبول کرنا معمولی بات نہ تھی۔بلکہ ایک پیار میر پر اٹھانا تھا۔اس وقت ساری دنیا کے عناد اور تمام مذاہب کی عداوت اسلام کے خلاف بھڑکی ہوئی تھی تاکہ اسلام کو مٹا دیں اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اسلام کے باقی رہنے میں ان کی ہلاکت ہے اس وقت یہودیت عیسائیت سے نہ ڈرتی تھی۔زرتشتی مذہب یہودیت اور عیسائیت سے نہ ڈرتا تھا۔ان کے ڈرنے کے لیے صرف ایک اسلام ہی تھا اور اسی کے خلاف وہ سب کوشش کرتے تھے کبھی یہ نہ دیکھو گے کہ بکری بھیڑ سے ڈرے حتی کہ بیل گائے سے بھی نہیں ڈریگی۔آنا ہوگا کہ