خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 532

۵۳۲ لیے جائز ہے کہ عدالت میں جاتے اور اس واقعہ کو بیان کرے، لیکن اگر نہ جاتے اور نہ بیان کرے تو یہ اس کیلئے ناجائز نہیں ہوگا۔پہلی دو باتیں جوئیں نے بیان کی ہیں۔اُن کا نہ بیان کرنا گناہ کرنا ہے اور بیان کرنا ثواب کا کام ہے، لیکن یہ ایسی ہے کہ نہ بیان کرنا گناہ نہیں اور بیان کرنا جائز ہے۔اس میں میں نے ایک شرط لگائی ہے۔اس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اس عیب کو بیان کرنا چاہیے۔جو اس کی ذات کے لیے فائدہ مند ہو یعنی جو عیب بیان کرے۔اسی میں اس کا فائدہ ہو۔مثلاً کسی نے مارا ہے اور اس بات کو بیان کر کے بدلہ لینے میں اس کا فائدہ ہے لیکن اگر کسی نے کر تھپڑ مارا ہو اور اس کا جھوٹ بیان کرتا پھرے تو یہ نا جائز ہوگا۔اس کا مجسٹریٹ کے پاس جاکر کہناکہ فلاں نے مجھے تھپڑ مارا ہے یہ تو جائز ہے، لیکن اگر وہ جاکر یہ ہے کہ فلاں جھوٹ بولتا ہے یا اس کا کوئی اور عیب بیان کرے۔تو یہ ناجائز ہے۔(۴) یہ کہ ایسا عیب جس سے دوسروں کو نقصان پہنچتا ہو۔اس کا بیان کرنا بھی ضروری ہوگا لیکن یہ یا د رکھنا چاہیے کہ جب اس کی اپنی ذات کے متعلق ہو۔تو جائز ہوگا اور اسے بھی ہوگا کہ بیان کرے یانہ کرے کیونکہ اپنی ذات کے متعلق عفو اور درگزر کرنے کا وہ حق رکھتا ہے، لیکن دوسروں کے متعلق یہ حق نہیں رکھتا اس نیے دوسروں کو اگر نقصان پہنچتا ہو تو اس کا بیان کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔ان چار اصول کے ماتحت عیب بیان کرنا جائز ہوگا اسی کے تحت یہ بھی جائز ہوگا کہ شناسی نے مشورہ کرتا ہے۔ایک جگہ شادی کرنا چاہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ فلاں لڑکی ہی کوئی عیب ہو تو بتاؤ اس کے جواب میں اگر کوئی عیب بیان کرتا ہے تو یہ بھی جائزہ ہوگا۔اسی طرح سب باتیں ان چار قسموں میں داخل ہیں۔مذہب - سیاست حکومت کے خلاف کوئی بات ہو یا (۲) ایسی بات ہو کہ اس کی ذات کو اس سے نقصان پہنچتا ہو۔جیسا کہ زہر کی مثال سے میں نے سمجھایا ہے۔ایسا ہی اعتقادات میں خرابی ہو۔اگر اس کے متعلق نہ بتایا جائیگا تو اسے نقصان پہنچے گا۔غرض بیتنے عیوب بیان کرنے جائز ہیں وہ سب ان چاروں قسموں کے اندر آجائیں گے۔لوگوں نے ان کی بہت سی قسمیں مقرر کی ہیں۔مگر اصل میں یہ چار ہی ہیں۔ان کے اندر سارے آجاتے ہیں۔ان سب کی ایک قسم یہ ہے کہ وہ عیب بیان کرنے جائز ہیں۔جن سے کسی نہ کسی کو نقصان پہنچتا ہو۔یہ بڑی قسم ہے اس کے نیچے چاروں قسمیں آجائیں گی۔پھر یاد رکھو وہی عیب بیان کرنا چاہیئے جو حقیقی طور پر ہو اور جس کا تدارک کیا جاسکتا ہو اگر ایسا نہیں تو پھر اس کا بیان کرنا جائز ہے۔یا لبعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بیان کرنے سے فائدہ ہوتا ہے