خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 530

۵۳۰ الشدة مرد شخص کا گوشت کھاتے۔تو مردہ مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح جس کی غیبت کی جائے وہ بھی تردید نہیں کر سکتا۔پھر غیبت کرنا ہی برا نہیں بلکہ غیبت سننا بھی بڑا ہے۔کیونکہ جو غیبت سنتے ہیں۔وہ غیبت کراتے میں پیس اول تو چونکہ یہ خود عیب ہے۔اس لیے میں طرح کسی کو غیبت کرنے میں گناہ ہے۔اسی طرح غیبت سننے میں بھی گناہ ہے لیکن جو سنتا ہے وہ چونکہ بیان کرنے والے کو تحریک کرتا اور جرات دلاتا ہے۔اس لیے بھی گنہگار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیبت سننے سے بھی منع فرمایا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی کسی بھائی کا عیب بیان کرتا ہے اور سننے والا اس کو یہ ذکرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کو اس کے گناہوں کو رد کر لگا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف غیبت سنے کو گناہ بتایا ہے بلکہ اس کے رد کرنے کو نیکی ٹھرایا ہے پس مومن کو چاہیے کہ اگر کوئی اس کے سامنے کسی بھائی کی غیبت کرے تو وہ اس کا رد کرے یعنی جو بات بیان کی جائے۔اس کے رد کرنے کی اس کے پاس وجوہات ہوں۔تو ان کو پیش کرے اور اگر اسے رد کرنے کے کوئی بات معلوم نہ ہو۔اور سمجھ میں نہ آئے تو غیبت کرنے والے کو روکے۔اور اگر وہ نہ رکے۔تو اس کے پاس اُٹھ کر چلا آئے۔یہ تین باتیں مومن کا فرض ہیں۔اول یہ کہ اگر کوئی اس کے سامنے کسی بھائی کا عیب بیان کرے تو اُسے کے جو نتیجہ تم نکالتے ہویہ صحیح نہیں۔اصل بات یہ ہے۔دوم اسے سمجھاتے کہ ایسا نہ کرو اور رسوم یہ کہ اگر وہ نہ مانے تو وہاں سے اُٹھ کر چلا جائے۔یہ تو غیبت کے متعلق احکام ہیں۔مگر یاد رکھنا چاہتے کہ ہر موقع پر کسی کا عیب بیان کرنا برا نہیں ہوتا۔بلکہ بعض جگہ ضروری ہوتا ہے۔اس وقت اس کو غیبت نہیں کہا جائیگا۔غیبت ایک اصطلاح ہے۔اور یہ اسی وقت استعمال کی جائے گی جبکہ خواہ مخواہ کسی کے عیب بیان کئے جائیں، لیکن اگر کوئی شخص کسی کا عیب بیان کرنے پر مجبور ہے یا اور وں کو اس کے بیان کرنے سے فائدہ پہنچتا ہے۔تو اس کا بیان کرنا نیکی اور ثواب کا کام ہوگا۔مثلاً ایک ایسا شخص ہے۔جو جماعت یا قوم کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے یا بُری باتیں پھیلاتا ہے تو اس کے متعلق اطلاع دینا اور اس کی شرارتوں سے ذمہ وار لوگوں کو آگاہ کرناضروری ہے۔اسی طرح کسی کو پتہ لگے کہ زید بکر کو قتل کرنا چاہتا ہے اگر وہ بکر کو نہیں بتاتا یا گورنمنٹ کو اس کی طلاع نہیں دیتا۔تو گناہ کرتا ہے۔یہ غیبت نہیں ہوگی اور اسکا بیان کرنا ضروری ہوگا۔تو کسی بات کے بیان کرنے اور بتانے میں یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس کے بیان کرنے میں نفع ہے یا نقصان۔اگر اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔کسی برائی کا سدباب ہوتا ہو کسی کو فائدہ پہنچتا ہو تو اس کانہ بیان کرنا گناہ ہو گا جس طرح غیبت کرنا