خطبات محمود (جلد 6) — Page 46
9 ار بسته دعاؤں پر خاص زور دو فرموده یکم مارچ حضور نے نشتند و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائی :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيب۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ، (البقرة : ١٠٠) ه اور فرمایا :- میں نے پچھلے چار جمعوں میں اس امر کے متعلق کہ ایمان کے کامل کرنے کے لیے کن امور پرعمل کرناضروری ہے۔بیان کیا تھا۔اور ارادہ ظاہر کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو بعض تفاصیل بیان کروں لیکن ایک خاص ضرورت سے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ مضمون تفصیل چاہتا ہے۔اور آج میرے حلق میں درد ہے ایک اور امر کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس موسم میں اکثر ہندوستان میں طاعون پھیلا کرتی ہے اور اب بھی جیسا کہ مختلف جگہوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے۔طاعون پھیل رہی ہے۔پنجاب کی اموات بھی ترقی کر رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں بھی زیادہ پھیلے گی۔کیونکہ ہماری جماعت کے افراد ایک جگہ نہیں۔بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں پر ایک ایک دو دو کر کے رہتے ہیں۔لہذا طاعون جہاں بھی ہو۔وہاں ہمارے آدمی بھی ضرور ہیں۔ایپس ضرورت ہے کہ اس مرض سے بچنے کے لیے تمام جماعت دُعاؤں میں لگ جائے۔قرآن شریف اور سنت اللہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے آنے سے پہلے جو دعائیں کی جاتیں وہ قبول ہوا کرتی ہیں۔اگر وہاں کے لوگ جہاں طاعون نہیں وہاں کے لوگوں کے لیے دعائیں کریں جہاں طاعون ہے تو اب جبکہ سخت حملہ نہیں ہوا۔میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ دور ہو جائے گی۔اور جہاں پڑگئی ہے وہاں کے لوگوں کو تو بالخصوص معاوں میں لگ جانا چاہیتے۔موت تو ہر ایک انسان کو آتی ہے لیکن چونکہ طاعون حضرت صاحب کی پیشگوئی کے ماتحت آتی