خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 359

۳۵۹ شخص بیشک بتوں کی پرستش نہ کرے، کوئی بتوں پر ایمان نہ لاتے اوران کی جگہ خدا پر ایمان رکھے مگر وہ اس بات کا انکار نہ کرے۔کوہ ہوں میں کسی قسم کی طاقت نہیں۔اگر ایک شخص بہتوں کو نہ مانتے ہوتے مگران کی طاقتوں کا انکار نہ کرتے ہوئے عیسائی ہوتا یا یہودی ہوتا۔یا موقد ہوتا۔تو مختلف عقید سے رکھ کر عرب کی سرزمین میں رہ سکتا تھا۔اگر بندش تھی تو یہ کہ بتوں کے خلاف کسی قسم کی رائے کا اظہار نہ نہ لوگوں کو ان متعلق اکسائے اگر یہ نہ کرے تو ایک شخص عیسائیت کو قبول کر کے عرب میں رہ سکتا تھا۔نہ صرف عرب میں بلکہ تہ میں رہ سکتا تھا۔یہ تو ہوئی حریت فکہ حریت عمل یہاں تک بڑھی ہوئی تھی۔کہ اس کے متعلق ایک مشہور واقعہ ہے کہ عربجے ایک حصہ کے ایک عرب بادشاہ نے اپنے درباریوں سے سوال کیا کہ کوئی ایسا ہے جو میری اور اس کی ماں میری ماں کی اطاعت نہ کرے۔انہوں نے جواب دیا کہ فلاں قبیلہ کا سردار ہے۔جو بڑا بادشاہ بھی نہیں وہ آپ کی اور اس کی ماں آپ کی ماں کی اطاعت نہیں کریں گے۔بادشاہ نے اس کو کہلا بھیجا کہ بادشاہ کو آپ کے، اور بادشاہ کی ماں کو آپ کی ماں کو دیکھنے کا شوق ہے۔اس سردار کا نام عمرو ابن الکلثوم تھا۔وہ اپنی ماں سمیت گیا۔اس کی ماں بادشاہ کی ماں کے خیمہ میں ٹھہری۔اور وہ بادشاہ کے خیمہ ہیں۔جب کھانے کا وقت آیا۔تو بادشاہ کی ماں نے حکمت عملی سے چاہا کہ اس عورت سے کام ہے۔اس لیے اس نے اس عورت کو کہا، کہ وہ برتن پکڑا نا۔میں کھانا لگا کر باہر تمہارے اور اپنے بیٹے کے لیے کھانا وہ بھیج دوں۔بظاہر یہ کوئی بڑی بات تھی۔نہ اس میں ہتک کا سوال تھا۔کیونکہ وہ خود تقسیم کرنے بیٹھی تھی اور جن کو باہر کھانا بھیجنا تھا اُن میں اس کا بیٹا بھی تھا، لیکن اس نے اس کو اپنی ہتک کا موجب قرار دیا۔اور کھڑی ہو کر زور سے اپنے قبیلہ کو پکارنے لگی۔کہ اسے فلاں قبیلہ والو ! تمہارے سردار کی ماں کی ہتک کی گئی۔اس آواز کا بلند ہونا تھا۔کہ اس کا بیٹا جو بادشاہ کے خیمہ میں تھا۔فوراً کھڑا ہو گیا۔اور کھڑے ہوتے ہی خیمہ کے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ایک طرف بادشاہ کی تلوار لٹک رہی تھی۔اس نے فوراً اس کو کھینچ لیا۔اور بادشاہ کا سراڑا دیا ، کہ تحقیق بعد میں کروں گا۔پہلے ماں کی پتنگ کا بدلہ تو لے لوں۔خیمہ سے باہر نکلا۔اور قبیلہ کے جو چند آدمی ساتھ تھے ان کو کہا کہ فوراً جو کچھ لوٹ سکتے ہو کوٹ لویه تو اتنی وہاں حریت تھی کہ بتوں کو برا کہنے کے سوائے کوئی مذہب رکھو۔اور ایسی حالت میں وہاں مختلف مذاہب کے لوگ بستے تھے۔اگر ان کو کسی بات سے دشمنی تھی تو اس سے کہ وہ بتوں کے خلاف ل الاغانى جلده صدا