خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 285

۲۸۵ دوسرے سے چاہا جائے کہ وہ اس پر احسان کرے مگر خود اس پر احسان نہ کیا جائے۔دراصل اپنے لیے احسان کا مطالبہ کرنا یہ احسان نہیں بلکہ ڈاکہ ہے کیونکہ اپنے نفس کے لیے خود مطالبہ کرنا احسان نہیں ہوتا۔ہاں تیرا شخص کہ سکتا ہے کہ احسان کرو، یہ نہیں کہ خود ایک انسان کسے کہ مجھ پر احسان کرد۔تو لینے والے کا حق نہیں کہ وہ احسان کا مطالبہ کرے، بلکہ مومن کے لیے تو یہ حکم ہے کہ وہ دوسرے پر احسان کرے۔دوسرے سے اپنے لیے احسان کا مطالبہ کرنا تو سوال ہے، اور مومن کے لیے سوال کرنا ممنوع ہے۔صحابہ کرام کی شان اسی قسم کے واقعات سے معلوم ہوتی ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور اس نے آپ سے سوال کیا۔آپ نے پورا کر دیا پھر آیا اور سوال کیا پھر آپ نے پورا کر دیا۔اسی طرح کئی دفعہ ہوا۔آخر آپ نے فرمایا، کیا میں تمہیں وہ چیز دوں۔جو تمہیں دین و دنیا میں غنی کر دے۔اور وہ یہ ہے کہ آئندہ کے لیے سوال کرنا چھوڑو دو۔اس نے عرض کیا کہ حضور نہیں اب کبھی سوال نہیں کروں گا۔ایک جنگ کے موقع پر یہی صحابی گھوڑے پر سوار تھے کہ ان کے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ایک دوسرے شخص نے چاہا کہ اُٹھا کر کپڑا دے۔مگر انہوں نے اس کو قسم دی کہ نہ پکڑا نا کیونکہ میں رسول اللہصلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اقرار کر چکا ہوں کہ کبھی سوال نہ کروں گا۔چنانچہ وہ خود گھوڑے سے اُترے اور کوڑا اٹھا کر پھر سوار ہو گئے لیے اگر چہ یہ سوال نہ تھا۔مگر چونکہ اس میں بھی ایک صورت سوال پیدا ہو جاتی تھی۔اس لیے اس سے بھی اجتناب کیا۔پس جو شخص معامل میں زیادہ چاہتا ہے وہ سوال کرتا ہے عورتوں کو دکھا جاتا کہ کوئی عورت سودا لاتے تو خرید نے والیاں ضرور زیادہ مانگتی ہیں۔اور کچھ نہ کچھ لے ہی لیتی ہیں خواہ ایک گندل ہو یا ایک گاجر ہی ہو۔اگر ایسا نہ کریں۔تو گویا ان کا شوق پورا نہیں ہوتا۔اسی طرح اور معاملات میں ہوتا ہے۔کپڑا لینے والا ایک گرہ زیادہ کا طالب ہو کر ممنون احسان بنا چاہتا ہے لیکن کم لے کر محسن بننا نہیں چاہتا۔پس کل اختلاف کی بنا ہے اور وہ شریعت کی ہتک ہے۔ایسا کرتا ہے جو خود کہتا ہے کہ مجھ پر احسان کرو۔حالانکہ یہ اس کاحق نہیں قاضی کا ہے کہ وہ کسے تم فلاں پھر احسان کرو۔اسی طرح جھگڑوں کو طوالت ہوتی ہے۔اگر ہر ایک فریق یہ کوشش کرے کہ وہ خود حسن بنے تو کوئی جھگڑا نہ ہو۔اور پھر ایک تیسرا شخص دونوں کو احسان کا مشورہ دے۔جو خود طالب احسان ہوتا ہے وہ بڑا کرتا ہے۔اگر اس طرح ہو کہ لوگ خود نہ کہیں بلکہ دوسرا کیسے تو اول تو اختلاف که بخاری ومسلم بروایت مشکواة کتاب الزكوة باب من لا تحل له المسألة ومن تحل له