خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 218

پھر دیکھنا تم سے کیا ہوتا ہے۔اب انشاء الله احمدی وہاں جائیں گے۔اور ہزاروں آدمی وہاں ہونگے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود نے کشف میں دیکھا تھا۔کہ آپ کے باغ کی ایک بلند شاخ کاٹی گئی اور وہ صاجزادہ عبد الطیف شہید مرحوم تھے۔وہ شاخ دوبارہ زمین میں گاڑی گئی لیے اب اس سے ہزاروں شاخیں پیدا ہونگی۔پس خدائے تعالیٰ اپنی قدرت کے نظارے دکھا رہا ہے۔اور نشان پر نشان ظاہر ہورہے ہیں لیکن لوگ اندھے ہوتے جاتے ہیں خدا ایک کے بعد دوسرانشان ظاہر کرتا ہے وہ انکار پر جے ہوتے ہیں۔امرتسر کے ایک مولوی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں کہاں زلزلہ آیا۔مگر زلزلہ اس کے گھر کے پاس بھی آگیا اب خدا عبد اللطیف کے بدلہ میں مسیح موعود کی جماعت میں ہزاروں عبد اللطیف پیدا کریگا۔نادان کہتے ہیں کہ انگریز کافر ہیں۔اس لیے ان کو فتح کیسی۔حالانکہ کافر کے لیے جو بدلہ ہے حقینی میں ہے مگر ظالم کو میں بدلہ لتا ہے پس انگریز ظالم نہیں ہیں۔ان کے ذریعہ دنیا میں امن قائم ہے اور دنیا کو عام فائدہ پہنچ رہا ہے اور خدا کتا ہے۔وَأَمَّا مَا يُنْفَعُ النَّاسَ قیمت فی الارض (الرعد (۱۹) کہ میں سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے اُسے زمین میں قائم رکھا جاتا ہے ہیں چونکہ انگریز امن قائم رکھتے ہیں اس لیے یہ قائم رہیں گے یہی وجہ ہے کہ خطر ناک سے خطرناک دشمن ان کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔مگر شکست کھاتے ہیں۔تو چونکہ یہ زمین میں امن قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔اس لیے خدا ان کی حکومت کو قائم رکھتا ہے۔اور جب تک ان میں یہ صفت رینگی۔اس وقت تک قائم رکھے گا۔غرض آج چونکہ خدا ہماری جماعت کی قمری نشانوں سے مدد فرمارہا ہے۔اس لیے ہماری جمات کا فرض ہے کہ ان نشانوں سے فائدہ اُٹھاتے۔حضرت مسیح موعود نے بار ہا فرمایا ہے۔کہ خدا جس بات کے ہونے کی خبر دیتا ہے۔اس کے لیے اگر انسان کوشش کریں تو وہ خدا کے منشار کے خلاف نہیں ہوتی۔اس وقت جو کابل نے گورنمنٹ انگریزی سے نادانی سے جنگ شروع کر دی ہے۔احمدیوں کا فرض ہے۔یہ گورنمنٹ کی خدمت کریں کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے۔لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لیے ایک نئی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت ہی قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب اور بلا وجہ مارے گئے پیس کابل وہ له تذكره صم