خطبات محمود (جلد 5) — Page 40
۴۰ 6 خطبات محمود جلد (5) ہر ایک بات میں حضرت مسیح موعود کو حکم مانو فرموده ۲۵ فروری ۱۹۱۶ء) تشہد وتعو ذوسورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا تِهَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيما (النساء : ٦٦) ہر ایک دانا انسان جب کوئی کام کرنے لگتا ہے تو پہلے اس کام کے کئی ایک پہلوؤں پر غور کر لیتا ہے۔یعنی اس کے نتیجہ اور انجام کو دیکھتا ہے۔پھر اس کی خوبی اور عمدگی کو دیکھتا ہے پھر ان ذرائع پر غور کرتا ہے جن کی وجہ سے وہ اس کام کے پورا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے لیکن جو لوگ ان باتوں کو سوچے سمجھے بغیر کوئی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں وہ اکثر درمیان میں ہی ٹھوکر کھا کے رہ جاتے ہیں۔کیونکہ جب تک کوئی مقصد مقرر نہ ہو۔مقصود کے حاصل کرنے کے ذرائع مقرر اور معین نہ ہوں اس کے فوائد اور نتائج دل میں مستحضر نہ ہوں تب تک انسان کبھی بھی اطمینان اور تسلی سے کوئی کام نہیں کر سکتا اور اگر کرے گا تو اس کا حال ایک اندھے کی طرح ہوگا جو دھر اُدھر ٹھوکریں کھاتا ہے اور دھکا لگنے سے کبھی ادھر لڑھک جاتا ہے اور کبھی اُدھر۔پس ہر ایک وہ شخص جو یہ چاہتا ہے کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو اور اپنے مدعا کو حاصل کر لے اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی کوشش اور محنت کے شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھ لے۔کہ اس مدعا کے حاصل کرنے سے مجھے کیا فائدہ ہوگا اور میرے لئے کیا نتیجہ مرتب ہوگا پھر ساتھ ہی اس کے حصول کے ذرائع کو معلوم کرے کہ وہ کیا ہیں اور ان کو جمع کرے۔اگر کوئی ان باتوں پر غور کر کے پھر اپنی محنت اور کوشش کا آغاز کرے اور اس پر استقلال دکھائے تو وہ ضرور کامیاب ہو جاتا ہے۔