خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 289

خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۹ سال ۱۹۱۵ء کو شائع کر دیں کہ تمام جماعت آج سے چالیس دن تک خوب زور سے دعا میں مشغول رہے تا کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں راستی ہے اور جو ضد سے کام نہیں لے رہے ان کو خدا تعالیٰ ہدایت دے۔اور پھر وہ دن لائے کہ سلسلہ احمدیہ سے بد نما داغ دور ہو کر اتفاق اور اتحاد پیدا ہو جائے۔اور ہماری جماعت دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرے۔نا پاک ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ کر اسلام کی ترقی ہو سکتی ہے۔جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود میں شخصیت تھی اور بہت جھوٹا ہے وہ انسان جو لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو چند الہامات اور کشوف ہوئے۔ایسے سب انسان اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دور ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرماتا ہے کہ راني مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتك هي جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا میں اس کی اہانت کروں گا۔ادھر تو وہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت لکھتا ہے کہ چند الہامات اور کشوف ہوئے اور ادھر لکھتا ہے کہ حضرت سید نا امیر کا اثر ظاہر ہے کہ آپ نے اپنی پر زور مدلل تحریروں سے ایک تو غیر قوموں کو دکھا دیا کہ اسلام اس پستی اور تاریکی میں نہیں ہے جو وہ خیال کرتے تھے بلکہ وہ ایک روشن آفتاب ہے جو سیاہ بدلیوں میں چھپا ہوا تھا۔پھر لکھتا ہے:۔ہاں سیدنا امیر نے ان مردہ دلوں میں ایک کھلبلی ڈال دی جن کو لوگ زندہ جانتے تھے۔اور ان طبیعتوں میں ایک شور پیدا کر دیا جن میں کسی قسم کی 66 تحریک کی قوت باقی نہ تھی۔“ اس کے نزدیک اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت تو بدلیوں میں چھپا رہا اور لوگ مردہ رہے لیکن آج مولوی محمد علی نے آکر اسلام کو روشن کر دیا اور مردوں میں حسان ڈال دی۔یہ حضرت مسیح موعود کی ہتک نہیں تو اور کیا ہے۔سو تم آج سے پھر دعا کرنا شروع کر دو اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ عرض کرو کہ ہمارے بعض وہ بھائی جو غلطی سے شریروں ( حضرت مسیح موعود کی ہتک کرنے والوں ) سے مل گئے ہیں وہ صداقت کو اندھوں کی طرح رو نہ کریں ، بہروں کی طرح انکار نہ کریں اور مجنونوں کی طرح اس سے بھاگتے نہ پھریں۔اللہ تعالیٰ