خطبات محمود (جلد 4) — Page 241
خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۱ سال ۱۹۱۴ء ہمیں اس گورنمنٹ کی وجہ سے میسر ہے اور کسی جگہ نہیں ہے اور اگر کسی میں ہوتا تو حضرت مسیح موعود وہاں پیدا ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود نے کہا ہے کہ اس گورنمنٹ کے بہترین ہونے کا یہی ثبوت ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اسی میں پیدا کیا ہے ورنہ اور جگہ پیدا کرتا تا کہ اسلام آسانی سے پھیل سکتا اس گورنمنٹ کے امن میں خلل ڈالنا گو یا اشاعت اسلام کے کام کو روک دینا ہے۔اب دیکھو کہاں تبلیغ ہو سکتی ہے، ہمارے مبلغ سمجھتے ہیں کہ جس سے بات کی جائے وہ کہتا ہے کہ آج کل جنگ کے سوا اور کچھ نہیں سوجھتا۔میرا ارادہ تھا کہ مختلف جگہوں میں اور مبلغ بھیجوں اور اگر جنگ نہ ہوتی تو کئی جگہ حضرت مسیح موعود کا نام پہنچ جاتا۔لیکن اب نہیں بھیجے جا سکتے۔تو جس قدر امن زیادہ ہوگا اس قدر ہمارا سلسلہ ترقی کرے گا۔اس بات کو سمجھ کر ہر ایک احمدی کو چاہیے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں امن قائم رکھنے کی باتیں سناتا ہے رہے اور اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کرے کہ کوئی اسے خوشامدی کہتا ہے، ہماری غرض خوشامد نہیں بلکہ حق کو پہنچانا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنمنٹ کے ہم پر احسان ہیں پھر ہم اس کی قدر کیوں نہ کریں کہ اگر کسی کو امن نہیں تو وہ حکومت چھوڑ کر چلا جائے قرآن شریف سے یہی ثابت ہوتا ہے۔بغاوت اور مخالفت کی اسلام نے کبھی اجازت نہیں دی۔اللہ تعالیٰ تمہیں ان باتوں کے سمجھنے کی توفیق دے اور تم دنیا کے امن سے فائدہ اٹھا کر حضرت مسیح موعود کا نام پھیلانے کے قابل ہو سکو اور اللہ تعالیٰ کا جاہ وجلال اور آنحضرت سالی سیا سیم کی اور حضرت مسیح موعود کی صداقت تمام دنیا پر پھیل جائے۔التحل: ٩١ تحفہ قیصریه صفحه ۱۲ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۶۴ سے تحفہ قیصریه صفحه ۳۲،۳۱ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۸۴،۳۸۳ (الفضل ۱۰۔دسمبر ۱۹۱۴ ء )