خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 682

خطبات محمود جلد سوم آئے اور ان کے ہاتھ میں روپوں کی ایک تھیلی تھی انہوں نے کہا یہ دو ہزار روپیہ ہے اور اگر آپ کو دس ہزار کی بھی ضرورت ہو تو وہ بھی مل سکتا ہے۔میں نے کہا اس وقت مجھے اتنے ہی روپیہ کی ضرورت تھی زیادہ کی ضرورت نہیں چنانچہ اس طرح محلہ دار الفضل کی بنیاد پڑی اور وہ روپیہ اشاعت قرآن میں دے دیا گیا۔بعد میں اللہ تعالٰی نے فضل کیا اور باغوں کی آمد کے علاوہ زمینوں کی آمد ہی لاکھ دو لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ گئی اور مزید فضل اس نے مجھ پر یہ کیا کہ میں نے اس آمد کو اپنی ذات پر خرچ کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ یہ روپیہ میں نے خدمت اسلام پر صرف کیا۔اس کے بعد میں نے سندھ میں بھی زمین خریدی اور اس کی آمد بھی ہمیشہ سلسلہ کے کاموں میں ہی خرچ ہوتی رہی چنانچہ اس وقت تک میں دو لاکھ تیس ہزار روپیہ چندہ تحریک جدید کو دے چکا ہوں۔اسی طرح ایک زمین چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے بطور نذرانہ دی جو ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تھی وہ بھی میں نے تحریک جدید کو دے دی۔اسی طرح تھل والی زمین میں نے صدر انجمن احمدیہ کے نام صبہ کر دی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا مجھ پر یہ فضل رہا کہ اس نے مجھے دولت کو ضائع کرنے سے محفوظ رکھا۔آخر میرے بیوی بچے بھی تھے اور ان کی خواہش تھی کہ میں ان کے آرام کی کوئی صورت پیدا کروں لیکن میں نے ان کی پرواہ نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنی آمد کا اکثر حصہ اشاعت اسلام کے لئے دیتا رہا اور یہ اللہ تعالٰی کا احسان ہے اس پر نہ مجھے کوئی فخر ہے اور نہ کسی تعریف و توصیف کی خواہش ہے۔یہ اللہ تعالی کا احسان ہے جس کا شکر ادا کرنے کے لئے اس کے آگے جس قدر بھی ماتھا رگڑا جائے کم ہے۔جائدادیں اکثر اوقات انسان کے لئے وبال جان بن جاتی ہیں اور اس سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ہاں اگر اللہ تعالی کسی کو عقل دے دے تو وہ ان تباہیوں سے بیچ جاتا ہے۔بہر حال میں بتانا چاہتا تھا کہ کس طرح ایک زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے ایک پیشگوئی فرمائی اور پھر اسے پورا کیا۔۱۹۰۴ء میں ایک شخص کے متعلق اس نے الہام فرمایا کہ وہ اہل بیت میں سے ہے۔کوئی کہہ سکتا تھا کہ یہ یوں ہی ایک گپ بانک دی گئی ہے لیکن کسی کو کیا پتہ تھا کہ ان کے بیٹے کی بیٹی اس خاندان میں بیاہی جائے گی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بیٹے کی شادی کی اور آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول کے ارشاد پر ہم نے اپنی دوسری بہن کا رشتہ بھی اس خاندان میں کر دیا اور پھر اس