خطبات محمود (جلد 3) — Page 525
خطبات محمود ۵۲۵ جلد سوم شادی نہ کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔گویا دونوں شقیں صرف اسلام نے ہی اختیار کی ہیں یعنی تجرد کو نا پسند اور برا قرار دیا ہے اور شادی کو نہ صرف پسندیدہ بلکہ ضروری بتایا ہے اور رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ جو شخص تجرد کی حالت میں فوت ہو وہ بطال ہے گویا اس نے اپنی عمر ضائع کر دی اور اس کی پیدائش کا جو منشاء تھا اسے اس نے پورا نہیں کیا۔اصل بات یہی ہے کہ انسان اور حیوان میں فرق یہ ہے کہ حیوان چونکہ عارضی زندگی کے لئے ہے اس لئے اس کی شادی یا بیاہ کا سوال ہی نہیں مگر انسان کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے مستقل زندگی دی ہے اور یہ مستقل زندگی مستقل قیام بھی چاہتی ہے اور اس سے چاہا گیا ہے کہ وہ نیکی کو دنیا میں قائم رکھے۔اللہ تعالٰی بھی اسے اپنی ربوبیت کی چادر اوڑھا دیتا ہے اور کسی چیز کے متعلق یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ قائم رہے نہ زمین کے متعلق یہ بات ہے اور نہ آسمان کے متعلق اگر کسی کے لئے ہے تو صرف انسان کے لئے جس کے یہ معنی ہیں کہ انسان میں اپنی ذات میں کوئی ایسی خوبی رکھی گئی ہے کہ جو ہمیشہ رکھے جانے کے قابل ہے اور جب یہ صورت ہو تو اسے اس دنیا میں فنا ہونے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے۔اگر یہ صحیح ہے کہ مرنے کے بعد بھی زندگی ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی اس کی نسل قائم رہنی چاہئے۔دنیا میں کوئی معمولی عقل و سمجھ کا انسان بھی ایسا نہیں کرتا کہ عمدہ غلہ کو ضائع کر دے، اعلیٰ بیج تو نہ رہنے دے سڑا گلا ہوا رکھ لے۔یا جانوروں مثلاً گھوڑے، بھیڑ، بکری وغیرہ کے تندرست بچے تو ضائع کر دے اور جو ناقص ہوں انہیں رہنے دے۔ہمیشہ اچھی نسل کو قائم رکھا جاتا ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ دنیا کی مخلوق میں سے بہترین انسان ہے، اگر یہ صحیح ہے کہ انسانوں میں سے بھی بعض بہتر ہوتے ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کی نسل بھی باقی رہے اور یہ کہ جو انسانوں میں اعلیٰ ہو اس کی نسل کا باقی رہنا دوسرے انسانوں سے بھی زیادہ ضروری ہے۔تمام مذاہب یعنی ہندو ، بدھ ، عیسائی اور زرتشتی سب مانتے ہیں گو بدھوں میں کچھ اختلاف بھی ہے مگر زیادہ تر میلان اسی طرف ہے کہ مرنے کے بعد روح کا قیام رہتا ہے۔تناسخ کے عقیدہ کی بنیاد ہی اس صورت میں قائم رہ سکتی ہے کہ روح کے قیام کو تسلیم کیا جائے۔گویا انسان کے مرنے کے بعد روح کے زندہ رہنے اور ترقی کرنے پر سب مذاہب کا اتفاق ہے جس کے معنے یہ ہوئے کہ یہ بہترین چیز ہے اور ایسی چیز کو دنیا سے فنا ہونے سے بچانا ضروری ہے۔اور ظاہر ہے کہ تجردا سے فنا کرنے والی بات ہے۔اگر تجرد اچھی چیز ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں میں قائم کرنا چاہئے