خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 482

خطبات محمود ۴۸۲ جلد سوم حسن سلوک نہ کیا جائے اس کی یہی خواہش ہوگی کہ جیسے مجھ سے خاوند محبت کرتا اور میری عزت کرتا ہے اسی طرح میرے بھائی اور والدین سے بھی محبت کرے اور ان کی عزت کرے۔تو الا تَعْدِلُوا کے معنے اپنے اندر بہت وسعت رکھتے ہیں۔کئی ہوتے ہیں جو کپڑے میں عدل نہیں کر سکتے اور کئی ہوتے ہیں جو روٹی میں عدل نہیں کر سکتے اور کئی ہوتے ہیں جو مکان کے معاملہ میں عدل نہیں کر سکتے تو ان سب صورتوں میں مرد کے لئے حکم ہے کہ فَوَاحِدَةً وہ ایک ہی شادی کرے جیسا کہ سوال کرنے والے دوست نے کہا ہے کہ اگر ہر مرد چار شادیاں کرنے لگ جائے تو کئی لوگ کنوارے رہ جائیں گے اور ان کو رشتہ نہیں ملے گا۔یہ وسوسہ بھی اگر الا کوا پر غور کیا جائے تو دور ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ شادیاں کرنا اس صورت میں عدل نہیں کہلا سکے گا بلکہ دوسروں پر ظلم ہو گا تو ا لا تعدلوا پر غور کیا جائے تو دور ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ شادیاں کرنا اس صورت میں عدل نہیں کہلا سکے گا بلکہ دوسروں پر ظلم ہو گا تو ا لا تَعْدِلُوا کے معنے بہت زیادہ وسیع ہیں۔ہاں قرآن کریم نے جسے افضل قرار دیا ہے وہ افضل ہے قرآن نے دو دو، تین تین اور چار چار شادیاں کرنے کو مقدم رکھا ہے۔بعض لوگ یہ سوال کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالی نے پہلے منی کا ذکر کیا ہے پھر ٹکٹ کا پھر ربع کا اس لئے سب سے افضل دو شادیاں ہیں اس کے بعد تین اور پھر چار۔لیکن یہ بھی غلط ہے یہ تقدیم و تاخیر عدد کے چھوٹے اور بڑے ہونے کی وجہ سے ہے۔ہمارے ملک میں بھی اور عربی زبان میں بھی چھوٹے عدد کو پہلے بیان کیا جاتا ہے اور بڑے عدد کو بعد میں۔عدد کو درجے کے لحاظ سے بیان کرنا فصاحت ہے اور بغیر درجہ کے بیان کرنا فصاحت نہیں۔اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص کے اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں جس کے حالات دو شادیاں کرنے کی اجازت دیتے ہیں وہ دو کرنے اور جس کے حالات تین یا چار شادیاں کرنے کی اجازت دیتے ہیں وہ تین یا چار کرے اور اس سے بڑھ کر کوئی نہ کرے اور اگر دو یا تین یا چار کرنے کے حالات اجازت نہیں دیتے تو پھر ایک کرے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بہت سے مرد مر جائیں گے اور عورتیں کثرت سے ہو جائیں گی۔یہاں تک لکھا ہے کہ دس مردوں میں سے سات مرد مر جائیں گے اور جب دس میں سے سات مر جائیں گے تو باقی تین رہ جائیں گے اس لحاظ سے بعض مردوں کو تین تین اور بعض کو چار چار شادیاں کرنی پڑیں گی۔نہ اس وقت عدل یہی ہو گا کہ شادیاں زیادہ کی جائیں مثلاً اگر ہمیں ایسی جگہ سے گزرنا پڑے جہاں ایک بچہ اور ایک پہلوان لیٹا ہے