خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 480

خطبات محمود ۴۸۰ جلد سود سے جو میں نے عدل کے کئے ہیں سو 100 میں سے کوئی ہی ہو گا جو ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا ہو۔اس دوست نے یہ بھی کہا تھا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔مالی تنگی کی حالت میں شادی کرو تو تنگی دور ہو جاتی ہے یہ بھی ایک وسوسہ ہے۔میں نے انہیں اس کا یہ جواب دیا کہ رسول کریم ﷺ کا یہ مطلب نہیں کہ ہر انسان جو دوسری شادی کرے اس کا مال بڑھ جاتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے بیسیوں لوگ دوسری شادی کرتے ہیں اور وہ تنگ دست ہو جاتے ہیں اور عورت کو منحوس کہنے لگ جاتے ہیں۔اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں کہ ایک شخص نے دوسری شادی کی تو وہ نوکری سے برطرف ہو گیا یا تجارت میں گھانا پڑ گیا یا اس قسم کی اور کوئی تکلیف اسے پہنچی۔ہمارے عام محاورہ میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے کہ فلاں شخص نے دوسری شادی کی تو اس کی حالت گر گئی۔در حقیقت اس شخص کے متعلق رسول کریم ﷺ کو کشفی طور پر یا رویا میں معلوم ہوا ہو گا کہ شادی کرنے کے بعد اس کی حالت اچھی ہو جائے گی چنانچہ جب وہ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور اپنا حال عرض کیا تو آنحضرت ا نے اسے دوسری شادی کرنے کے لئے ارشاد فرمایا جب اس نے دوسری شادی کی اور اس کی حالت نہ سدھری تو پھر رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا تو چونکہ رسول کریم ﷺ کو علم تھا کہ اس کے لئے جو بھلائی مقدر ہے وہ شادی ہی میں ہے اس لئے آپ نے فرمایا ایک اور شادی کر لو اس نے تیسری شادی کر لی پھر بھی اس کی حالت اچھی نہ ہوئی۔وہ پھر رسول کریم ان کے پاس آیا اور عرض کیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اور شادی کرو۔چنانچہ اس نے کرلی اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ رسول کریم اے کے پاس آیا اور آپ نے اس سے حال دریافت فرمایا تو اس شخص نے بتایا کہ اب میری تنگی دور ہو گئی ہے اور آرام ہی آرام ہے۔شہ بعض دفعہ کشف اور رؤیا کے بغیر بھی اپنی فراست سے مومن ایک بات کہتا ہے اور وہ پوری ہو جاتی ہے۔یہاں ایک شخص بہائی عورت بیاہ کر لایا وہ اسے میرے پاس لایا اس وقت میں گول کمرہ میں بیٹھا کرتا تھا اور کہا آپ اسے تبلیغ کریں۔مجھے اس وقت ایسا معلوم ہوا میری اور اس کی روحیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔مجھے ایسا محسوس ہو تا تھا کہ میرے جسم سے ایک چیز نکل کر اس سے ٹکراتی ہے اس سے میں نے معلوم کر لیا کہ یہ عورت ہدایت نہیں پائے گی۔چنانچہ وہ مدتوں یہاں رہی اور احمدی نہ ہوئی۔ایک دفعہ اس نے بعض اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے احمدیت کا اظہار بھی