خطبات محمود (جلد 3) — Page 387
۳۸۷ جلد سود خطبات محمود ہو چکا ہے اس کی درستی کی ذمہ داری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر دگنی عائد ہوتی ہے ان کے لئے انعام بھی دہرے ہیں مگر سزا بھی دہری ہے۔اگر وہ اپنے مقصد کو پورا کریں تو ان کے لئے ثواب بھی دوسروں سے دہرا ہے لیکن اگر ان کے اندر خود سری ہو، اگر دنیا کی بہتری اور ترقی کے لئے ان میں قربانی کا مادہ نہ ہو تو پھر سزا بھی ان کو دوسروں سے زیادہ ملے گی کیونکہ انہوں نے نور کو قریب سے دیکھا اور محروم رہے۔- پس اس تقریب پر میں ان نوجوانوں سے جنہوں نے شادیاں کرنی ہیں یا جو نسل پیدا کر رہے ہیں بالخصوص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس کی حکومت کو اس سے کیا تقویت حاصل ہو سکتی ہے۔وہ اپنی بہتری کے لئے نہیں کہتا بلکہ جس طرح ایک دفعہ نخلط حرف لکھ دینے پر استاد شاگرد سے کہتا ہے کہ پھر کوشش کرو بیٹا ہمت نہ ہارو اسی طرح اس حکم کے ذریعہ اللہ تعالی انسان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ اور کوشش کر کے ایسی نسل پیدا کرو جو دنیا سے بغض، کینہ، لالچ، حرص، دنیا سے پیار، جھوٹ، فریب، مکاری، دغا بازی وغیرہ وغیرہ کو مٹا دے اور دنیا میں رسول کریم ﷺ سے عشق اور دین سے وابستگی رکھنے والے لوگ پیدا ہوں جو دنیا سے دہریت اور بے دینی کو کچل دیں۔شیطان آج ہم پر کس طرح حملہ کرتا ہے عموماً ہمارے بچوں کے ذریعہ سے ہی وہ ہم پر حملہ کرتا ہے۔ہمارے بچے جاتے ہیں اور مغربی تعلیم سے متأثر ہو کر اسی تلوار سے باپ دادا کے سر کانتے ہیں۔لیکن اگر ہم خود توجہ اور عقل سے کام لیں تو کیا ہم اپنے بچوں کے ذریعہ شیطان کا سر نہیں کاٹ سکتے ؟ یقینا کاٹ سکتے ہیں اور بہت زیادہ آسانی سے کاٹ سکتے ہیں کیونکہ وہ بہر حال غیر ہے اور اپنے بچوں پر ہم جس آسانی سے اثر ڈال سکتے ہیں وہ نہیں ڈال سکتا۔پس اس نکتہ کو سمجھ کر آئندہ اپنی اولادوں کی تربیت کرو اور پھر دیکھو دنیا کس آسانی سے بدلی جاتی ہے۔لیکن اگر تم خود ان کو نمازوں میں ست کرو، قربانی سے روکے رکھو بلکہ اگر کبھی موقع بھی آئے تو ان کے رستہ میں روک بن جاؤ تو وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جو رسول کریم نے اس دعا میں رکھا ہے اور ایسے شخص کی دعا جو عملی طور پر کوئی کوشش نہیں کرتا اس کے منہ پر ماری جائے گی اور اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکے گی۔الفضل ۱۴ مئی ۱۹۳۶ء صفحه ۴ تا ۶)