خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 367

خطبات محمود جلو موم - کیا کرے - اللهم جَيْبُنَا الشَّيْطَنَ وَجَنْبِ الشَّيْنَ مَا رَزَقْتَنَا۔کہ یہ دعا ہے جس سے خشیت اٹھی اور تقومی پیدا ہوتا ہے اور اس سے انسان اپنی خوشی کی حالت کو قائم رکھ سکتا ہے۔اس کے بعد جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو رسول کریم ﷺ کا حکم ہے کہ اس کے کان میں اذان کہو۔اگرچہ بچہ نہیں سمجھتا کہ کیا کیا گیا لیکن پھر بھی اس کے اندر بولنے کی قوت مخفی ہوتی ہے جس طرح جنگل کے سرکنڈے میں بولنے کی طاقت مخفی ہوتی ہے مگر اس کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب اس کو کاٹ کرنے (بانسری) بنائی جائے اسی طرح بچے کے اندر بھی بولنے کی قابلیت ہوتی ہے لیکن اس کا ظہور بعد میں ہوتا ہے۔بچہ کے اندر قابلیت اور قبولیت دونوں مارے موجود ہوتے ہیں۔قبولیت کا مادہ تو روز روشن کی طرح ظاہر ہے اسی بناء پر رسول کریم ﷺ نے بچے کے کان میں اذان دینے کی تاکید فرمائی اور اس کے بعد بچہ کے بڑے ہونے پر اس کی تربیت کی تاکید فرمائی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ حضرت امام حسین کی خود تربیت فرمائی۔کھانا کھاتے وقت جس طرح بچوں کی عادت ہوتی ہے حضرت امام حسین نے بھی ادھر ادھر سے تھے لینے شروع کر دیئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا كُلُّ بِيَمِينِكَ وَ كُلُّ مِمَّا يَلِيْكَ - ٣ یعنی دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔اسی طرح ایک دفعہ صدقہ کی کھجوریں آئیں تو حضرت امام حسین نے ان میں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی آنحضرت ا نے اسی وقت ان کے منہ میں انگلی ڈال کر کھجور نکال لی۔سے ایسی اور بہت سی مثالیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ بچوں کی بچپن سے ہی تربیت کرنا ضروری سمجھتے تھے۔پھر جب بچہ ذرا اور بڑا ہوتا ہے اور وہ باتوں کی نقل کرنا سیکھ جاتا ہے تو نماز سکھانے کی تاکید فرمائی۔اس کے علاوہ تعلیم پر بھی زور دیا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے رسول کریم ا نے فرمایا جو شخص اپنی دو لڑکیوں کو تعلیم دیتا اور آداب سکھاتا ہے وہ اپنے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔شہ لوگ عموماً لڑکیوں کو تعلیم نہیں دلاتے اس واسطے لڑکیوں کا رسول کریم ﷺ نے ذکر کیا ہے یہ مطلب نہیں کہ لڑکوں کو تعلیم نہ دلانا کوئی حرج کی بات نہیں۔پھر جب بچہ اس سے ترقی کرتا اور بڑا ہوتا ہے تو اسے شریعت کے احکام اور اخلاق فاضلہ سکھائے جاتے ہیں اور یہی چیز ہے جس سے حقیقی نیکی قائم ہو سکتی ہے۔