خطبات محمود (جلد 39) — Page 41
$1958 41 خطبات محمود جلد نمبر 39 دکان کرتا ہوں آپ مجھے لے لیں اور میرے بھائی کو چھوڑ دیں۔چنانچہ ہم نے اس کو رکھ لیا اور اسے پشاور کی طرف بھیج دیا۔جیسے سندھ میں ڈاکٹروں کی کمی ہے اسی طرح سرحد میں بھی ڈاکٹروں کی کمی کی ہے۔اب اس کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ بڑی کثرت کے ساتھ پٹھان میری دکان پر آتے ہیں اور دین کی باتیں سنتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں بھی وفد گئے ہیں وہاں سے خوشکن اطلاعات آنی شروع ہوگئی ہیں مگر کہتے ہیں گے آمدی وگے پیر شدی جب میں ربوہ سے چلا تھا تو ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ان مرکزوں کو قائم کیے ہوا تھا حالانکہ اصل نتائج سال ڈیڑھ سال کے بعد نکلا کرتے ہیں۔پس صحیح نتائج تو اگلے جلسہ کے بعد انشَاءَ اللہ نکلنے شروع ہوں گے لیکن اس کے خوشکن آثار ابھی سے ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔جیسے کہتے ہیں ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کے آثار بتا رہے ہیں کہ اس کا مستقبل بہت شاندار ہوگا۔اس وقت یہ تحریک ایک بچہ کی صورت میں ہے اور بچہ کے پیدا ہوتے ہی اُس کے دانت نہیں دیکھے جاتے نہ اُس کی داڑھی دیکھی جاتی ہے۔دو تین سال میں اس کے دانت نکلتے ہیں۔پھر وہ چلنا پھرنا تی سیکھتا ہے اور کہیں اٹھارہ میں سال کے بعد اُس کی داڑھی نکلتی ہے۔اگر پہلے دن ہی اُس کی داڑھی تلاش کی جائے تو یہ بیوقوفی ہوگی۔اسی طرح وقف جدید کے نتائج اور اس کی خوبیوں کا ابھی سے اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔اس وقت تک جو کیفیت ہے اس کے لحاظ سے واقفین زیادہ ہیں اور چندہ کم ہے۔جب میں چلا ہوں تو وقف جدید میں ستر ہزار سالانہ کے وعدے آئے تھے لیکن واقفین تین سو پینتالیس تھے۔اگر پچاس روپیہ ماہوار بھی ایک شخص کو دیئے جائیں اور پھر دورہ کرنے والوں کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھا جائے اور اوسط خرچ ستر روپیہ ماہوار سمجھا جائے تو تین سو پینتالیس واقفین کے لیے پچپیس ہزار روپیہ ماہوار یا تین لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہوگی اور اتنا روپیہ ہمارے پاس نہیں۔بلکہ ہماری اصل سکیم تو یہ ہے کہ کم سے کم ڈیڑھ ہزار سینٹر سارے ملک میں قائم کر دیے جائیں۔اگر ایک ہزار سینٹر بھی کھولے جائیں اور ستر روپیہ ماہوار ایک شخص کے خرچ کا اندازہ رکھا جائے تو ستر ہزار روپیہ ماہوار