خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 39

$1958 39 خطبات محمود جلد نمبر 39 انسپکٹر بھجوایا جائے میں جانتا ہوں کہ کراچی سے ایک انسپکٹر نواب شاہ تک کے علاقہ کو سنبھال لے اور تمام مقامات کا دورہ کرے۔وہ کہتے تھے کہ اس غرض کے لیے ایک انسپکٹر وقف جدید مقرر کر دیا جائے گا۔میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس غرض کے لیے پیش کریں۔اگر ادھر سے نواب شاہ تک کے علاقہ کی نگرانی کراچی کرے تو ربوہ سے نواب شاہ تک کے علاقہ کی ہم خود نگرانی کر لیں گے۔اس کے بعد ہم ایک انسپکٹر صوبہ سرحد سے مانگ لیں گے جو مردان، نوشہرہ، راولپنڈی اور ایبٹ آباد وغیرہ کا کام سنبھال لے گا۔اس طرح نگرانی کا کام دو تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر خرچ بہت کم ہو جائے گا۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ چودھری صاحب سے تعاون کریں۔یہ اتنا تھوڑا علاقہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں مہینہ میں ایک دو دن کے اندر اندر تمام علاقہ کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سلسلہ کا خرچ بہت سا بچ جائے گا۔اگر ربوہ سے انسپکٹر چلے تو کراچی تک تھرڈ کلاس میں بھی اکیس روپے خرچ ہو جاتے ہیں اور اب تو ریل کے کرایوں پر ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے جس سے کرایہ میں اور بھی زیادتی ہوگئی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہم وہاں سے انسپکٹر بھجوائیں تو اُس کے آنے جانے میں پچاس روپے لگ جائیں گے لیکن اگر یہاں سے کوئی آدمی چلا جائے اور وہ نواب شاہ تک کے علاقہ کی نگرانی کرے تو خرچ میں بہت سی تخفیف ہو جائے گی۔دوسرے کام جلدی جلدی ہونے لگے گا۔وہاں سے انسپکڑ آئے تو ہمیں انتظار رہے گا کہ نامعلوم وہ کب تک سب مقامات کا دورہ کر کے واپس آتا ہے لیکن اگر ملک کے مختلف سیکشن مقرر ہوں تو نگرانی میں بڑی آسانی ہو سکتی ہے۔مثلاً پشاور والے نگرانی کا کام سنبھال لیں تو وہ مردان ایک ہی دن میں جا کر واپس آسکتے ہیں۔نوشہرہ سے بھی اُسی دن واپس آسکتے ہیں۔راولپنڈی بھی ایک دن میں آجا سکتے ہیں۔1956ء میں جب ہم مری میں تھے تو ایک دفعہ ہم نے ایک پہاڑی مقام پر سیر کے لیے جانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ وہاں دُنبہ پکا کر لے چلیں۔کیپٹن محمد سعید صاحب جو ان دنوں وہاں ہوتے تھے اُن کو ہم نے بھیجا کہ وہ کہیں سے اچھا سا دُنبہ تلاش کر کے لے آئیں۔جب وہ دُنبہ لے کر واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ یہاں چونکہ اچھا دُنبہ نہیں ملتا تھا اس لیے میں پشاور چلا گیا تھا اور وہاں سے دُنبہ لے آیا۔تو پشاور سے راولپنڈی تک آنا جانا بڑا آسان ہے۔پس پشاور کی والے اگر ہمت کریں تو اُن کا انسپکٹر مردان، نوشہرہ، راولپنڈی، ایبٹ آباد اور مری وغیرہ کی آسانی سے