خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 228

$1958 228 خطبات محمود جلد نمبر 39 کے لیے تو گرمی اور سردی دونوں کی شدت بڑی بھاری مصیبت بن جاتی ہے۔فالج کی بیماری میں بھی بعض دفعہ گرمی کا احساس بڑھ جاتا ہے اور بعض دفعہ سردی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔میں نے 5 ستمبر کو جمعہ کے روز گرمی کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ اس کے بعد بارش ہوگئی اور گرمی کی شدت جاتی رہی۔پھر پچھلے جمعہ میں میں نے شکایت کی کہ گرمی زیادہ ہوگئی ہے تو پھر بارش ہوگئی۔آج پھر شدت کی گرمی پڑ رہی ہے۔اگر پھر کوئی بارش ہو جائے تو امید ہے کہ آٹھ دس کی دن تک ربوہ کا موسم بدل جائے گا یا کم سے کم یہاں کا تو ضرور بدل جانا چاہیے۔جولوگ یہاں آئے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ یہاں ٹھنڈک ہے مگر ہمیں محسوس نہیں ہوتی۔پچھلے دنوں میرے نواسے یہاں آئے تو میں نے کہا ہمیں تو آج یہاں گرمی محسوس ہو رہی ہے۔وہ کہنے لگے آپ کو گرمی محسوس ہوتی ہو گی ہمیں تو سردی معلوم ہوتی ہے۔پرسوں ہی راولپنڈی کا درجہ حرارت 94 تھا اور یہاں کا درجہ حرارت 83 تھا۔گویا 11 ڈگری کم تھا حالانکہ راولپنڈی ہمارے ملک میں ٹھنڈا سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح ایبٹ آباد بھی ٹھنڈا سمجھا جاتا ہے مگر وہاں 84 تھا۔گویا ایبٹ آباد اور نخلہ کا درجہ حرارت قریباً برابر تھا۔مگر پچھلے سال تو یہاں بعض دفعہ 50 تک بھی درجہ حرارت گر جاتا تھا۔آجکل یہاں صرف 71 تک درجہ حرارت گرا ہے۔اترسوں یہاں کا درجہ حرارت 73 تھا اور اس سے پہلے جب بارش نہیں ہوئی تھی درجہ حرارت 77 تک پہنچ گیا تھا مگر پچھلے سالوں میں صبح کے وقت 50 تک درجہ حرارت رہا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ساڑھے تین بجے تک قریباً 64 یا 65 تک پہنچ جاتا تھا مگر آج صبح کے وقت بھی 74 تھا ، کل 71 تھا اور پرسوں 72 تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ ہی فضل کرنے والا ہے۔سورج چاند سب خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ہمارا تو ان پر کوئی زور نہیں چلتا۔یہی وجہ ہے کہ اس سال ہماری کپاس کی فصلیں بالکل تباہ ہوگئی ہیں بلکہ اتنی ماری گئی ہیں کہ پچھلے پندرہ سال میں بھی ہماری کپاس کی فصل اتنی کم نہیں ہوئی جتنی اس سال ہوئی ہے بلکہ اس سال تو اتنی فصل بھی نہیں ہوئی کہ مالیہ بھی ادا کیا جاسکے۔گورنمنٹ بڑی مہربانی کرتی ہے تو کہتی ہے کہ اگلے دو سال میں قسط وار مالیہ ادا کر دینا۔مگر سوال یہ ہے کہ قسط دینے کے لیے روپیہ کہاں سے آئے گا؟ اسلامی اصول تو یہ ہے کہ اگر کسی سال فصل نہ ہو تو مالیہ بھی معاف کر دیا جاتا ہے مگر یہاں اگر فصل نہیں ہوتی تو کہا جاتا ہے کہ اسے قرض کے طور پر سمجھ لو اگلے سال میں ادا کر دینا۔اس کے معنے