خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 118

$1958 118 خطبات محمود جلد نمبر 39 کر رہے ورنہ خدا جھوٹا نہیں ہو سکتا۔وہ اپنے وعدوں میں سچا ہے اور وہ جو بات بھی کہتا ہے اُسے پورا کر کے رہتا ہے۔جھوٹے ہم ہی ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی محبت کا تو دعوی کرتے ہیں مگر اس کے مطابق اپنے اندر کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے۔احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔چونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شہد میں شفاء ہے۔2 اس لیے آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کو شہد پلاؤ۔حالانکہ طبی طور پر شہد دست لاتا ہے انہیں بند نہیں کرتا۔وہ گیا اور اُس نے جا کر شہد پلا دیا۔مگر اُس کے بھائی کے دست اور بھی بڑھ گئے۔وہ ان پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میرے بھائی کے دست تو اور زیادہ ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ اور اور شہد پلاؤ۔وہ گیا اور پھر اُس نے شہد پلا دیا جس پر اس کے اسہال اور بھی بڑھ گئے۔وہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! اُس کو تو اور زیادہ دست آنے لگ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اور خدا سچا ہے۔جاؤ اور اُس کو اور شہد پلاؤ۔چنانچہ اُس نے پھر شہد پلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کے اندر سے ایک بڑا سائرہ نکلا اور اُس کے اسہال جاتے رہے۔3 اسی طرح اگر ہماری کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو ہم اپنے متعلق کہیں گے کہ ہم جھوٹے ہیں اور ہم نے وہ شرطیں پوری نہیں کیں جن کے پورا کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکتا تھا۔ورنہ خدا سچا ہے۔اگر ہم اُس کی شرائط کو پورا کرتے تو خدا بھی اپنے وعدے کو پورا کرتا۔ہماری جماعت کے وہ معلم اور مربی جو اس وقت پاکستان میں یا پاکستان سے باہر یورپ اور امریکہ میں کام کر رہے ہیں اُن کو چاہیے کہ وہ اس آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس تندہی سے دین کی خدمت بجالائیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو جائے اور وہ ان کے کام میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور ان کو ہر رنگ میں کامیابی نصیب کرے۔اگر وہ ایسا کریں گے تو یقیناً ان کی مساعی کی کی وجہ سے اسلام کی بھی عزت بڑھے گی۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی عزت بڑھے گی اور جو شخص اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بڑھاتا ہے یہ ناممکن ہے کہ خدا اُس کی عزت نہ بڑھائے۔جو کام خدا کر رہا ہوا گر وہی کام بندہ کرنے لگ جائے تو وہ خدا تعالیٰ کا بہت ہی عزیز ہو جاتا ہے