خطبات محمود (جلد 38) — Page 142
142 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم صرف احکام پر ہی عمل نہ کرو۔بلکہ اس بات پر بھی یقین رکھو کہ میں تمہاری دعائیں سن سکتا ہوں اور ان کے مطابق دنیا میں تغیرات پیدا کر سکتا ہوں۔اگر تم یہ یقین نہیں رکھتے تو پھر تمہارا دعا کرنا بنسی اور تمسخر ہے۔جیسے اگر کوئی شخص بُت کے آگے روتا بھی رہے اور چنیں مار مار کر دعائیں بھی کرتا رہے تو بت نے کیا کر لینا ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص خدا تعالیٰ کے سامنے کی بیٹھ جاتا ہے اور اس سے دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے۔لیکن دل میں یہ یقین نہیں رکھتا کہ خدا اُس کی دعاؤں کو سن سکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی بہتک کرتا اور اسے ایک بُت کا درجہ دیتا ہے۔لیکن اگر وہ پورے یقین کے ساتھ خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے تو اس کی پکار کبھی ضائع نہیں جاسکتی۔خدا تعالیٰ اس کی مدد کے لیے دوڑا چلا آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی ایک رشتہ دار عورت جو غالباً اُن کی پھوپھی تھیں اُن کی کسی دوسری عورت سے لڑائی ہوگئی۔جوش میں اُن کی پھوپھی نے اُس عورت کو تھپڑ مارا جس سے اُس کا دانت ٹوٹ گیا۔اس عورت کا بیٹا یا بھتیجا مسلمان تھا۔اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعوا می دائر کر دیا اور کہايَا رَسُولَ اللہ ! جس طرح میری والدہ یا بچی کا دانت توڑا گیا ہے اسی طرح ابو ہریرہ کی پھوپھی کا بھی دانت توڑا جائے۔چونکہ حضرت ابو ہریرہ ایک مخلص صحابی تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سمجھایا کہ معاف کر دو مگر اس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں معاف نہیں کر سکتا۔میرے دل میں بڑی تی آگ ہے۔جب تک ان کی پھوپھی کا بھی دانت نہیں نکالا جائے گا مجھے تسلی نہیں ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پھر سمجھایا اور فرمایا کہ جانے دو۔مگر وہ نہ مانا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے کے باوجود وہ نہ مانا تو حضرت ابو ہریرہ نے سمجھ لیا کہ جو انسانی زور ہو سکتا تھا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہی ہو سکتا تھا۔جب اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے تو اب خدا ہی باقی رہ گیا ہے۔اُس کے سامنے مجھے اپنا ہاتھ پھیلانا چاہیے۔چنانچہ وہ جوش میں آگئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا کہ خدا کی قسم! میری پھوپھی کا دانت نہیں تو ڑا جائے گا۔اس فقرہ کا اُن کے منہ سے نکلنا تھا کہ وہی مسلمان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کو بھی رڈ کر چکا تھا خدا کا نام سن کر ڈر گیا اور کہنے لگایا رَسُولَ اللہ ! میں معاف کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں