خطبات محمود (جلد 38) — Page 133
$1957 133 خطبات محمود جلد نمبر 38 میں جانتا ہوں کہ کامل وہی ہے جو عربی زبان میں خدا تعالیٰ نے اُتارا ہے۔میں جو ترجمہ کروں گا وہ بہر حال ناقص ہی ہوگا اور مجھ سے پہلوں نے جو کچھ کیا ہے وہ بھی ناقص ہے۔مجھے ان کے تراجم میں نقائص نظر آتے ہیں اور ہزار سال بعد آنے والوں کو میرے ترجمہ میں نقص نظر آئیں گے۔قرآن کریم کے مقابلہ میں جو کچھ بھی ہو گا وہ ناقص ہی ہوگا۔یہ کوئی مسیح کے پرندے تھوڑے ہی ہیں جو رل مل جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ مولویوں کا خیال ہے کہ مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔میں نے ایک مولوی سے پوچھا کہ آپ کا خیال ہے کہ مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔یہ جو پرندے ہوا میں اُڑ رہے ہیں اُن میں خدا تعالیٰ کے پرندے کونسے ہیں اور مسیح علیہ السلام کے بنائے ہوئے پرندے کو نسے ہیں؟ مولوی صاحب پنجابی تھے وہ کہنے لگے ” مرزا صاحب! میں تہانوں کی دستاں اوہ تے ہن رل مل گئے ہن۔یعنی میں آپ کو کیا بتاؤں وہ تو اب مل جل گئے ہیں۔پس حضرت مسیح علیہ السلام کے پرندے تو رل مل جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کا کلام رل مل نہیں سکتا۔وہ بہر حال اس بات کا ہر وقت مقتضی رہے گا کہ اس میں سے نئے نئے مضامین نکالے جائیں۔پس ہم اِنشَاءَ اللہ کوشش کریں گے کہ ترجمہ کا کام جلد ختم ہو جائے۔چھاپنے والے ماپنے کی کوشش کریں گے اور خدا تعالیٰ چاہے تو یہ ترجمہ تمبر یا اکتوبر میں چھپ جائے گا۔چھاپنے والوں کے پیسے تو خرچ نہیں ہوں گے اور نہ انہیں محنت کرنی پڑتی ہے۔ترجمہ بھی ہم کریں گے اور پیسے بھی ہم دیں گے۔لیکن انہیں مفت میں ثواب مل جائے گا۔ہزاروں آدمی اسے پڑھیں گے اور اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔اتنا آسان ثواب کسے مل سکتا ہے۔اگر اس کی بھی کوئی ناقدری کرے تو وہ بہت بڑا بدقسمت ہے۔چاہیے کہ کیا کاتب اور کیا چھاپنے والے اور کیا منتظم اور پھر کیا وہ لوگ جن کو میں ترجمہ ڈکٹیٹ کرواتا ہوں وہ رات دن ایک کر کے اس کام کو ایک دفعہ پورا کر دیں تا لوگ اس سے فائدہ اُٹھانا شروع کر دیں اور ان کے لیے ثواب کا ایک رستہ کھل جائے۔زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اگر ترجمہ چھپ جانے سے پہلے کوئی ہم میں سے مر گیا تو وہ ثواب سے محروم ہو جائے گا۔اگر ترجمہ مکمل ہو جائے اور وہ چھپے نہیں تو چھاپنے والا ثواب سے محروم ہو جائے گا۔اور اگر وہ چھپ جائے اور لوگ اسے