خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 128

$1957 128 خطبات محمود جلد نمبر 38 عیسائیوں پر زیادہ اثر نہ ہوتا۔اب تو وہ سمجھتے ہیں کہ میں انہی میں سے ایک ہوں اور اسلام کا مجھ پر اتنا اثر ہے کہ میں یہ خیالات ظاہر کرنے پر مجبور ہو گئی ہوں۔یہ کتاب 1925 ء میں لکھی گئی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کتاب کی خوب اشاعت کی جائے تو امریکہ میں اسلام کا اچھا اثر پڑے گا بلکہ امریکہ تو الگ رہا میں سمجھتا ہوں وہ وقت دور نہیں جب ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور وہ اسلام کی سچائی اور عظمت کی قائل ہو جائے گی“۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: میں نماز جمعہ کے بعد کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ٹوپی ضلع مردان جو صوبہ سرحد کے پرانے اور مخلص احمدی تھے اور بہت بڑے خاندان سے تھے وفات پاگئے ہیں۔ان کا خاندان پیروں کا خاندان تھا اور صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب جو ان کے رشتہ کے بھائی تھے پندرہ میں سال تک صوبہ سرحد میں وزارت اور دوسرے بڑے عہدوں پر رہے تھے۔ملک عبدالجبار خاں صاحب پسر ملک عبد القادر خاں صاحب آف فیض اللہ چک ضلع گورداسپور حال کراچی۔مرحوم موصی اور پابند صوم و صلوۃ تھے۔روزہ کی حالت میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے فوت ہو گئے۔غلام محمد صاحب کوٹ کا ناضلع گجرات 313 صحابہ میں سے تھے۔بہت تھوڑے احباب جنازہ میں شریک ہو سکے۔چودھری فضل خاں صاحب کھوکھر تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور حال چک 60 تحصیل جڑانوالہ ضلع لائکپور مخلص احمدی تھے۔جنازہ میں بہت تھوڑے دوست شریک ہوئے۔نماز جمعہ کے بعد میں یہ چاروں جنازے پڑھاؤں گا۔دوست میرے ساتھ شریک ہوں“۔الفضل 18 مئی 1957 ء )