خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 580

$1956 580 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور بدنامی نہ کرو، منافقت نہ دکھاؤ، فساد نہ کرو۔اگر تم ایسے ہو جاؤ گے تو ہر قدم پر اور ہر میدان میں خدا تعالیٰ تمہارا ساتھی ہوگا۔یہ قرآن کریم کا وعدہ ہے جو اَصْدَقُ الصَّادِقِينَ ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اگر تم اس پر عمل کرو گے تو تم ہمیشہ کامیابی اور بامرادی دیکھو گے اور تمہارا دشمن ناکام و نامراد ہو گا کیونکہ تمہارا دشمن خدا تعالیٰ کو نہیں پکارتا۔اُسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو پکارتا ہے۔لیکن تم مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہو اور اُس سے مدد چاہتے ہو۔ہمارے ایک تایا تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا کے بیٹے تھے اور آپ کے سخت مخالف تھے اور دہریہ تھے۔انہیں آپ سے اتنی ضد تھی کہ ہر موقع پر وہ اپنا بغض نکالتے تھے۔آپ نے جب مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تو انہوں نے بھی دعوی کر دیا کہ میں چوہڑوں کا پیر ہوں اور ان کے بزرگوں کا اوتار ہوں۔ایک دفعہ لدھیانہ کے بعض چوہڑے جو اپنے پیر سمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مُرید ہو گئے تھے۔اپنے پیر سے اجازت لے کر قادیان آئے۔مرزا امام دین صاحب کو پتا لگا تو انہوں نے انہیں بلایا ای اور کہا میاں ! ادھر آؤ۔جب وہ اُن کے پاس گئے تو انہوں نے کہا میاں ! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مرزا غلام احمد کے مرید بن گئے ہو؟ چوڑھوں کا لال بیگ تو میں ہوں۔تم مرزا صاحب کے پاس کیوں چلے گئے ہو؟ تمہیں وہاں کیا ملا ہے؟ انہوں نے کہا مرزا صاحب! ہم تو ان پڑھ ہیں۔ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ ہمیں کیا ملا ہے صرف اتنا علم ہے کہ آپ مغل تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کی وجہ سے چوڑھے کہلانے لگ گئے اور ہم لوگ چوڑھے تھے لیکن مرزا صاحب کو مان لینے کی وجہ سے مرزائی کہلانے لگ گئے ہیں۔ہمیں دلائل نہیں آتے صرف اتنا نظر آتا ہے کہ ہم آپ پر ایمان لانے کی وجہ سے مرزا بن گئے ہیں اور آپ مخالفت کرنے کی وجہ سے چوڑھے بن گئے ہیں۔مرزا امام دین صاحب کو ایک دفعہ پیٹ درد ہوا۔ان دنوں قادیان میں حضرت خلیفہ اول کے سوا اور کوئی طبیب نہیں ہوتا تھا۔اس لیے انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الاول کو بلایا۔آپ اُن کے گھر تشریف لے گئے۔آپ نے دیکھا کہ وہ درد کے مارے دالان میں