خطبات محمود (جلد 37) — Page 524
$1956 524 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نے مسجد مبارک کے سامنے والے چوک میں دیکھا کہ ایک گروہ لوگوں کا لنگر خانہ کی طرف سے آ رہا تھا اور ایک گروہ ہائی اسکول کی طرف سے آ رہا تھا۔جب دونوں گروہ چوک میں پہنچے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر ذرا رک گئے اور کچھ دیر رکنے کے بعد ایک طرف کے لوگ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کے آدمیوں سے بغلگیر ہو گئے اور پھر انہوں نے رونا شروع کر دیا۔حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ نظارہ دیکھ کر تعجب ہوا اور میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ اس پر ایک فریق نے بتایا کہ ہم ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں۔یہ لوگ ہمارے گاؤں میں پہلے احمدی ہوئے تھے اور ہم لوگ پیچھے احمدی ہوئے۔جب یہ لوگ احمدی ہوئے تو ہم لوگ طاقتور تھے۔ہم نے ان کی سخت مخالفت کی اور انہیں اپنے گاؤں سے نکال دیا۔اس پر یہ کسی اور جگہ چلے گئے۔اب پندرہ ہیں سال کے بعد یہ ہمیں اس جگہ ملے ہیں جبکہ ہم بھی احمدی ہو گئے ہیں۔اس لیے انہیں دیکھ کر ہمیں رونا آ گیا کہ ہم نے تو انہیں اپنے روں سے نکالا تھا لیکن اب ہم بھی احمدی ہو گئے ہیں اور اس جگہ سے فیض لینے آئے ہیں جہاں سے انہوں نے فیض حاصل کیا تھا۔اب دیکھو انہوں نے دس پندرہ سال سے اپنے ان رشتہ داروں کو نہیں دیکھا تھا لیکن قادیان میں ان کا ملاپ ہو گیا۔اسی طرح اگر تم اپنے غیر احمدی دوستوں کو اپنے ساتھ لاؤ گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی محبت پیدا کر دے اور ان کا بغض جاتا رہے۔دلوں میں محبت پیدا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے اور جب وہ کسی کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ حنین کے لیے تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ مکہ کے نو مسلم بھی شامل ہو گئے تا کہ وہ جنگ کے میدان میں اپنے جوہر دکھا ئیں اور عربوں پر اپنا رُعب بٹھا ئیں۔اُنہی میں شیبہ نامی ایک شخص بھی تھا۔وہ کہتا ہے میں بھی اس لڑائی میں شامل ہوا مگر میری نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پاکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کر دوں گا۔جب لڑائی تیز ہو گئی اور ادھر کے آدمی اُدھر کے آدمیوں میں مل گئے تو میں نے تلوار کھینچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ