خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 487

خطبات محمود جلد نمبر 37 487 $1956 وہی تحریک جدید جس نے ساری دنیا کی تبلیغ کا بوجھ اُٹھایا ہوا ہے۔میں یہ نہیں کہتا ہے کہ تحریک جدید کے دفاتر کے کام پر میں خوش ہوں۔ہالینڈ کی مسجد کو ہی لے لو میرے نزدیک اگر تحریک جدید کے افسر احتیاط سے کام لیتے تو ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے میں مسجد بن جاتی اور عورتوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑتا۔لیکن بہر حال تحریک جدید کے ذریعہ ایک نہایت اہم اور قابل تعریف کام ہو رہا ہے اور جماعت کو اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس میں حصہ لینا چاہیے تا کہ وہ تبلیغ اسلام کو ساری دنیا میں پھیلا سکے۔اس سال سکنڈے نیویا میں ایک نیا مشن کھولا گیا ہے اور ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ شاید ہمیں اپنے خرچ پر کچھ اور مبلغ بھی امریکہ بھجوانے پڑیں کیونکہ امریکہ میں مبلغوں کی بڑی مانگ ہے۔لیکن امریکن احمدی ان کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے بلکہ امریکن جماعت کا چندہ امریکہ کے موجودہ مبلغوں کا خرچ کی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اگر چہ مغربی ممالک میں سے امریکہ ہی ایک ایسا ملک ہے جو ایک ر تک تبلیغ کا بوجھ اُٹھا رہا ہے۔وہاں کے مشن کا خرچ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب ہے لیکن وہ قریباً دو تہائی بوجھ اُٹھا رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں جماعت تھوڑی ہے۔امریکہ کی جماعت کے گل پانچ سو افراد ہیں اور ظاہر ہے کہ پانچ سو افراد کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کا بوجھ برداشت کرنا مشکل ہے۔اس لیے لازمی طور پر ہمیں بھی ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اگر اور مبلغ گئے تو اور خرچ ہو گا۔پھر ایک اور علاقہ میں بھی تبلیغ کے رستے کھل رہے ہیں اور کچھ وقت کے بعد وہاں با قاعدہ مشن قائم کیا جا سکے گا۔اسی طرح چین سے ایک بڑے عالم کا عربی اور انگریزی میں خط آیا ہے جس میں اُس نے اپنے ملک میں احمدیت کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی ہے۔فلپائن میں بھی بعض نوجوان لٹریچر کے ذریعہ احمدی ہوئے ہیں اور تازہ اطلاع آئی ہے کہ وہاں طلباء کی ایک انجمن ہے جس کے آٹھ ممبر لٹریچر کے ذریعہ احمدی ہو گئے ہیں اور ان میں سے بعض نے دین کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی بھی وقف کی ہے اور وہ ربوہ آ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اب اگر وہ ربوہ آ کر تعلیم حاصل کریں گے تو اُن کے یہاں قیام کے اخراجات بھی دینے پڑیں گے اور ایک طرف کا کرایہ بھی دینا پڑے گا۔اس طرح بچھپیں تیس ہزار روپیہ کا خرچ اور بڑھ جائے گا۔غرض ہمارا اشاعتِ اسلام کا کام ہر روز