خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 461

خطبات محمود جلد نمبر 37 461 $1956 1924ء میں جب میں انگلستان گیا تو خالد شیلڈرک ایک بڑا مخلص نو مسلم تھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا آپ خواجہ صاحب کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے؟ کہنے لگا نہیں۔میں نے پھر پوچھا کیا آپ عبداللہ کو علم کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے؟ کہنے لگا نہیں۔میں نے کہا کس کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے؟ کہنے لگا عبد اللہ سہروردی صاحب کے ذریعہ سے ہوا وہ مسلمان ہوا تھا۔عبداللہ سہروردی صاحب موجودہ وزیر اعظم پاکستان کے چچا تھے۔کہنے لگا بیرسٹری میں پڑھتے تھے لیکن انہیں تبلیغ کا جنون تھا۔وہ رات دن تبلیغ کرتے رہتے تھے۔چنانچہ میں انہی کے ذریعہ مسلمان ہوا ہوں۔اب دیکھو وہ ایک طالبعلم کے ذریعہ مسلمان ا تھا کیونکہ اُسے کلمہ پڑھوانا آتا تھا۔عبداللہ سہروردی صاحب میں تبلیغ کا اتنا جوش تھا کہ وہ شملہ میں ہمیشہ مجھے ملا کرتے اور کہتے میری خوش قسمتی ہے کہ آپ شملہ آ گئے ہیں۔اب میں آپ سے تبلیغ کا پروگرام بنوانا چاہتا ہوں تا کہ میں باہر کسی ملک میں نکل جاؤں اور تبلیغ می کروں۔پس کلمہ پڑھوانا بھی ایک بڑا کام ہے۔جس کے دل میں اللہ تعالیٰ جوش ڈال دے وہی کلمہ پڑھوا سکتا ہے۔ورنہ اور لوگوں کو تو اُس پٹھان کی طرح یہی کہنا پڑتا ہے کہ کلمہ تو ہمیں بھی نہیں آتا ہم تمہیں کیا مسلمان بنا ئیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نظام دینی سے الگ ہونے والوں کی تعریف کر دی ہے۔فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ تُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَ " کہ اگر کوئی نظام دینی سے الگ ہو جائے تو خدا تعالیٰ اُس کے بدلہ میں ایک قوم لے آتا ہے۔اگر قوم لے آئے تو معلوم ہوا کہ وہ مرتد ہے اور اگر قوم نہ لائے تو معلوم ہوا کہ الگ ہونے والا مرتد نہیں اور اُس جماعت کے افراد سچے مومن نہیں۔اگر الگ ہونے والا مرتد ہوتا اور اُس جماعت کے افراد سچے مومن ہوتے تو خدا تعالیٰ کی جگہ ضرور ایک قوم لے آتا ورنہ جھوٹا ٹھہرتا اور اگر خدا تعالیٰ جھوٹا نہیں بلکہ سب بچوں سے زیادہ سچا ہے تو معلوم ہوا کہ ہمیں مرتد کہنے والے غلطی پر ہیں۔اگر ہم واقع میں مرتد ہوتے تو خدا تعالیٰ ہماری جگہ پر عیسائیوں اور ہندوؤں میں سے لوگوں کو مسلمان بناتا۔لیکن وہ ہماری جگہ نہیں بناتا بلکہ ہمارے ہاتھ سے بناتا ہے جس سے صاف پتا لگتا ہے کہ ہمارے