خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 351

$1956 351 خطبات محمود جلد نمبر 37 مجھے اٹھائیسویں پارے کے آخر میں ہیں۔یہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نوٹوں اور بعض حوالوں کے لیے ابھی اور بھی کچھ وقت لگے گا۔مگر تین چار مہینے کے اندراندر سارے قرآن شریف کا ترجمہ ہونا الہی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یاد ہے جب 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی گئے تو خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب، ڈپٹی نذیر احمد صاحب مترجم قرآن کو بھی ملنے گئے۔انہوں نے آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا کہ ڈپٹی صاحب نے اپنے اردگرد کاغذوں کا ایک بڑا ڈھیر لگا رکھا تھا۔ایک مولوی بھی انہوں نے ملازم رکھا ہوا تھا اور خود بھی انہیں عربی زبان سے کچھ واقفیت تھی۔پھر وہ کہنے لگے میں نے بڑی کتابیں لکھی ہیں مگر ساری کتابیں ملا کر بھی مجھے اتنی مشکل پیش نہیں آئی جتنی مشکل مجھے قرآن کریم کے ترجمہ میں پیش آئی ہے۔چنانچہ دیکھیے میں نے ردی کاغذوں کا ڈھیر لگا رکھا ہے۔لکھتا ہوں اور پھاڑتا ہوں، لکھتا ہوں اور پھاڑتا ہوں۔چنانچہ سات سال انہیں اس ترجمہ کے مکمل کرنے میں لگے۔مگر میں نے یہ ترجمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت تھوڑے عرصہ میں کر لیا۔پہلے آٹھ پاروں یعنی سورۃ انعام کے آخر تک کا ترجمہ پہلے ہو چکا تھا اور سورۃ یونس سے کہف تک کا ترجمہ 1939,40ء میں ہوا اور آخری پارے کا ترجمہ پچھلے آٹھ دس سالوں میں ہوتا رہا۔پہلے آٹھ سیپاروں میں سے سورۃ مائدہ کی چند آیتیں جو قرآن کریم کی مشکل ترین آیات میں سے ہیں اور اسی طرح سورۃ انعام کی چند آیتیں رہتی تھیں۔اسی طرح سورۃ اعراف، انفال اور سورۃ توبہ کا ترجمہ اور آخری چودہ پارے باقی تھے۔گویا قریباً سترہ پاروں کا ترجمہ ابھی رہتا تھا۔ہم 23 را پریل کو ربوہ سے مری گئے تھے۔پہلے آخری پارہ کی چند سورتیں باقی تھیں ان کی ہم تفسیر کرتے رہے۔اس کے بعد ترجمہ کا کام جون میں شروع ہوا اور اب اگست کا آخر ہے۔بیچ میں دس دن بخار بھی چڑھتا رہا اور قریباً دس دن مری سے جابہ اور پھر جابہ سے مری اور پھر مری سے ربوہ اور ربوہ سے مری آنے جانے میں لگے اور اس طرح دو مہینے اور کچھ دن رہ جاتے ہیں جن میں سارے قرآن کریم کے ترجمہ کا کام خدا تعالیٰ کے فضل - چنانچہ 25 راگست کی شام تک خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن شریف کا سارا ترجمہ ختم ہو گیا - ނ