خطبات محمود (جلد 37) — Page 175
$1956 175 خطبات محمود جلد نمبر 37 لیکن ایسی جگہ نہ بیٹھیں کہ لوگ آپ سے اونچی آواز سے باتیں کر رہے ہوں اور آپ کو اُن کا لی ، اونچی آواز میں جواب دینا پڑتا ہو۔اور شورای کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔انگریزی میں ایک نجی محاورہ ہے کہ راؤنڈ دی ٹیبل ٹاک Round The Table Talk) یعنی میز کے اردگرد لوگ بیٹھے ہوں اور اُن سے باتیں کی جا رہی ہوں اور مسائل پر غور و فکر جاری ہو۔اور ایسی جگہ بیٹھنے سے اُس نے مجھے منع کیا اور کہا کہ میں تقریروں سے نہیں روکتا۔چنانچہ جلسہ سالانہ پر میں نے ایک تقریر متواتر دو گھنٹے تک کی اور اس سے پہلے بھی دو دن تقریریں کرتا رہا۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے کوئی کوفت نہ ہوئی۔لیکن شورای کے بعد طبیعت ایسی بگڑی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ میرے ہوش و حواس جاتے رہے ہیں اور جسم بالکل بیکار ہو گیا ہے۔کچھ یہ بھی خیال ہے کہ اُس وقت گرمی کا موسم آچکا تھا اور پھر شورای کی کیفیت راؤنڈ دی ٹیبل ٹاک والی تھی۔یعنی لوگ بولتے تھے اور مجھے اُن کی باتوں پر غور کرنا پڑتا تھا اور پھر مجھے بولنا پڑتا تھا۔اور ڈاکٹر نے لکھا تھا کہ یہ سخت مضر ہے۔پھر بعد میں معلوم ہوا کہ ان ایام میں گرمی کی وجہ سے انتڑیوں اور معدہ پر بھی بُرا اثر پڑا۔شوری سے پہلے ہی میری بھوک بند تھی لیکن پھر اور بھی بند ہو گئی۔اس طرح انتریوں کی یہ کیفیت ہو گئی کہ اسہال روکنے کی دوا دی جاتی تو بالکل قبض ہو جاتی اور اجابت والی دوا دی جاتی تو اسہال شروع ہو جاتے۔غرض طبیعت اس قدر منقلب ہو گئی کہ وہ ای انتہا کی طرف جاتی تھی۔اگر قبض کی طرف جاتی تو کئی کئی دن تک اجابت کی طرف مائل ہی نہیں ہوتی تھی اور اگر اسہال کی طرف جاتی تو دن میں کئی کئی دفعہ اسہال آ جاتے۔گویا انتڑیاں اور معدہ بالکل خراب ہو گیا۔گو اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہو گیا کہ پہلے ڈاکٹروں کی توجہ ادھر نہیں گئی ہے تھی۔لیکن اس بیماری کی وجہ سے انہیں انتڑیوں کے علاج کا خیال پیدا ہوا۔چنانچہ ابھی چار پانچ دن سے ہی ادھر توجہ ہوئی ہے تو پھر خدا نے ایک نئی طاقت بخش دی ہے۔باقی وہ جو احساس تھا کہ گرمی کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ہے اس کے لیے انجمن نے ایک کثیر رقم خرچ کر کے کراچی میں کوٹھی بنوائی تھی اور اس سے غرض یہ تھی کہ وہاں مبلغ رہے اور اس کے ساتھ جماعت کی لائبریری اور ریڈنگ روم بھی ہو تاکہ وہاں سلسلہ کی اعلی درجہ کی نمائندگی ہو سکے۔یہ کوٹھی پچھلے سال سے بن رہی تھی۔میں انگلستان سے بھی