خطبات محمود (جلد 36) — Page 73
خطبات محمود جلد نمبر 36 73 $1955 ایک دوسرے کو سنارہے ہیں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اُس نے ایک رقعہ لا کر مجھے دیا اور کہا کہ یہ رقعہ سرا قبال کا ہے۔اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ چونکہ آپ کے خاندان کی زبان فارسی ہوا کرتی تھی اس لئے اگر آپ کا فارسی میں کوئی کلام ہو تو بھجوائیں۔اس سے مجھے شرمندگی ہوئی کہ ہمارے بچپن میں تو ہمارے گھر کی مستورات بھی فارسی بولا کرتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول فارسی کے سخت مخالف تھے گو میں نے مثنوی مولا نا تج روم اُن سے سبقاً پڑھی ہے۔لیکن وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے فارسی سے اس لئے سخت بغض ہے کہ اس نے عربی زبان کی جگہ لے لی ہے اور اُسے تباہ کر دیا ہے۔چونکہ وہ ہمارے استاد تھے اور استاد کا اثر طبعا ہوتا ہے اس لیے فارسی کی طرف مجھے بھی چنداں رغبت نہیں ہوئی۔ورنہ فارسی خود ایسی زبان ہے کہ جسے عربی اور اردو آتی ہو وہ ایک دو ماہ کے اندراندر ہی آسانی سے اسے سیکھ سکتا ہے۔اسی طرح حضرت صاحب بھی فرمایا کرتے تھے کہ فارسی زبان ہمارے گھر میں بولی جاتی تھی اور گھر کے افراد فارسی میں خط و کتابت کیا کرتے تھے۔ایک دور فعے حضرت صاحب کے بھی ایسے ملے ہیں جو فارسی میں ہیں۔اسی خیال سے میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ سرا قبال نے کہا ہے کہ آپ کے گھر میں فارسی بولا کرتے تھے اس لئے میں آپ کو لکھ رہا ہوں کہ آپ فارسی میں کوئی کلام بھیجیں۔یہ مجھے یاد نہیں کہ کلام حضرت صاحب کا ہو یا میرا۔چنانچہ میں نے معذرت سی کر کے بھیجوا دی اور اس کے بعد میں نیچے اترا۔میں نے دیکھا کہ شیخ یعقوب علی صاحب ایک پہلو میں ہیں اور دوسرے میں سرا قبال مرحوم بیٹھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر اقبال کی وہی شکل تھی جو 1930 ء، 1931ء میں میں نے دیکھی تھی یعنی مضبوط چہرہ تھا اور رنگ میں صفائی تھی۔میں نے اُن کو دیکھا تو ایک اور شخص جو احمدی ہے میرے سامنے آیا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا باتیں کر رہے تھے؟ اُس نے بتایا کہ سرا قبال اپنے فارسی کے اشعار شیخ یعقوب علی صاحب کو سنا رہے تھے اور شیخ یعقوب علی صاحب پرانے شاعروں کا کلام اور قرآن مجید انہیں سنا رہے ہیں۔میں نے اُس سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کو شیخ صاحب کا قرآن شریف پڑھنا کیسا پسند آیا۔تو اُس نے کہا کہ شیخ صاحب کی آواز میں جولوچ 1 ہے اس کی وجہ سے انہوں نے اُن کے اشعار کو تو پسند کیا ہے۔لیکن اُن کے قرآن شریف پڑھنے سے وہ اتنے متاثر نہیں ہوئے۔