خطبات محمود (جلد 36) — Page 310
$1955 310 خطبات محمود جلد نمبر 36 لوگ یہ خیال اپنے دل سے نکال دیں کہ غیر احمدی چندہ نہیں دیں گے۔اُن میں بھی اسلام سے محبت رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔اور جب اُن پر حقیقت واضح کر دی جائے تو وہ اس کام میں مدد دینے کے لیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ میں نے سکنڈے نیویا کے مشن کے لیے تحریک کی تو لاہور کے ایک غیر احمدی دوست نے ساڑھے پانچ سو روپیہ چندہ دے دیا۔اسی طرح میں نے کراچی میں ایک تقریر کی تو اس کے بعد ایک غیر احمدی دوست نے پچاس روپے بھیج دیئے کہ انہیں آپ جہاں چاہیں خرچ کریں۔چنانچہ میں نے وہ روپیہ اشاعت اسلام کے لیے د۔دیا۔پس آپ لوگ بلا وجہ حجاب کرتے ہیں اور غیر احمدیوں سے چندہ نہیں مانگتے۔آپ اپنے اپنے دوستوں کے پاس چلے جائیں اور انہیں بتائیں کہ اس وقت ہماری جماعت اشاعت اسلام کا فریضہ ادا کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے ہو رہا ہے۔اگر آپ کو اس بات کی توفیق نہیں کہ اپنے مبلغ کسی ملک میں بھیجیں تو یہ بات تو آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ ہماری جماعت کی مالی امداد کریں اور اس نیک کام میں اللہ تعالیٰ کے حضور حصہ دار بن جائیں۔آپ معمولی رقم دے کر بھی اس کام میں حصہ دار بن سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ ہم سوئٹزر لینڈ ، ہالینڈ ، فن لینڈ اور دوسرے ممالک میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔اگر تم اس طرح جماعت کی مالی طاقت کو مضبوط بنانے میں لگ جاؤ اور زیادہ سے زیادہ غیر احمدی دوستوں کو اس کام میں حصہ دار بنا لو تو تھوڑے عرصہ میں ہی دس پندرہ لاکھ روپیہ صرف اسی ذریعہ سے اکٹھا ہو سکتا ہے۔چونکہ دوسرے مسلمانوں میں یہ مادہ نہیں پایا جاتا کہ وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے غیر ممالک میں جائیں اس لیے چاہے وہ روپیہ دیں پھر بھی آدمی تمہارے ہی کام کریں گے اور ان ہی کو اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنی پڑے گی۔ایک دفعہ افریقہ کے ایک مبلغ نے مجھے لکھا کہ اس علاقہ میں ازہر یو نیورسٹی کی طرف سے ایک مبلغ بھجوایا گیا ہے جو بہت بڑا عالم ہے اور میں معمولی لکھا پڑھا ہوں۔میں حیران ہوں کہ اب میں کیا کروں گا؟ میں نے اُسے لکھا کہ گھبراؤ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر