خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 422

$1954 422 خطبات محمود مزید برکات حاصل کریں تو جمعہ کو اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ جلسہ کی برکات پہلے۔بڑھ جائیں۔اور جلسہ کی برکات بڑھنے کا ذریعہ وہی ہو سکتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نے فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی اسلامی اجتماع ہو تو ذکر الہی اور عبادت زیادہ کی جائے۔تم تمام اجتماعوں کو دیکھ لو، ان میں اور دوسرے لوگوں کے اجتماعوں میں یہی فرق نظر آتا ہے کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہی اور عبادت پر زور دیا۔اور دوسرے لوگوں کے اجتماعوں میں ذکر الہی اور عبادت نہیں ہوتی۔ہم حج کے لیے جاتے ہیں تو وہاں بھی ذکر الہی ہوتا ہے، عیدین کے لیے جاتے ہیں تو وہاں بھی ذکر الہی ہوتا ہے، شادی اور بیاہ کے لیے جاتے ہیں تو وہاں بھی ذکر الہی ہوتا ہے، جنازہ کے لیے جاتے ہیں تو وہاں بھی ذکر الہی ہوتا ہے۔گویا ہمارے سب اجتماعوں کو بابرکت بنانے کا نسخہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بیان فرمایا ہے کہ ان میں ذکر الہی اور عبادت زیادہ کی جائے۔اور تمہارے لیے تو یہ اور بھی اہم بات ہے۔اس لیے کہ تم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہو۔تم ایک خالص مذہبی جماعت ہو۔اور پھر مذہبی جماعت بھی عیسائی نہیں ہو، ہندو نہیں ہو، زرتشتی نہیں ہو، بدھ نہیں ہو ، تم خالص اسلامی مذہی جماعت ہو اور خالص اسلامی مذہبی جماعت کا مقام در حقیقت یہی ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈیوڑھی کے پہریدار ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اس دنیا کے لیے قطب بنایا ہے۔ساری روحانی دنیا آپ کے گرد گھومتی اس لیے آپ کا وجود دنیا کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہے اور جو لوگ آپ کے تابع ہوں اُن کا اصل کام یہی ہوتا ہے کہ وہ آپ کے لائے ہوئے نور کو زندہ رکھیں۔اگر یہ نور مٹ گیا تو کہیں روشنی نہیں مل سکے گی۔اور اگر یہ نور قائم رہا تو کوئی ظلمت باقی نہیں رہے گی۔ظلمت کدہ میں ایک ہی چراغ ہو تو تم جانتے ہو کہ اس کی کتنی قیمت بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کے مجھنے سے اندھیرا ہی اندھیرا ہو جاتا ہے اور اس کے جلنے سے اندھیرے کا گلی طور پر خاتمہ ہو جاتا ہے۔پس تمہارا وجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈیوڑھی کے پہریداروں کے طور : ہے جن کا کام مکین کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔لیکن اگر تم غور سے دیکھو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کا مکین جس طرح اس دنیا میں یتیم آیا تھا اب بھی اُسی طرح یتیم ہے۔ساری دنیا اس کی ہے۔جب