خطبات محمود (جلد 35) — Page 200
خطبات محمود 200 $1954 میں بیمار صرف اس وجہ سے ہوا کہ جس گھر میں مجھے ٹھہرایا گیا وہ اس قدر گندا تھا کہ امی چیونٹیوں سے بھرا ہوا تھا۔رات کو بھی چھت سے چیونٹیاں گرتیں اور بچے چیخیں مارنے لگ جاتے۔معلوم نہیں انہوں نے مکان اتنا گندا کیوں رکھا۔میں نے کسی جگہ پر ایسا گند نہیں دیکھا جیسا یہاں دیکھنے میں آیا ہے۔پس اپنے اندر صفائی کی عادت بھی پیدا کرو۔ایک چیز ایسی ہے جو صرف خدا کو نظر آتی ہے۔مگر ایک چیز ایسی ہے جو بندے بھی دیکھتے ہیں۔اگر تمہارا دل صاف ہے تو لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں۔وہ تمہارا جسم دیکھتے ہیں۔اگر تمہارا جسم گندا ہے اور دل صاف ہے تو بیشک جب تم مر جاؤ گے خدا تعالیٰ تمہیں اچھی جزا دے گا لیکن دنیا میں لوگ تمہیں گندا ہی سمجھتے رہیں گے اور تمہارے پاس بیٹھنے سے گریز کریں گے۔پس ہر پہلو کی طرف توجہ کرو اور ہر لحاظ سے دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔خدا تعالیٰ نے اس وقت تمہیں ثواب کا بہت بڑا موقع دیا ہے۔اگر تم چاہو تو تم ذرا سی محنت اور توجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا اسلام کی طرف توجہ کر رہی ہے مگر ہمارے پاس لٹریچر نہیں، کتابیں نہیں، روپیہ نہیں کہ ان ذرائع سے ہم انہیں اسلام کی تعلیم سے آگاہ کر سکیں۔لیکن تم ان ضرورتوں کو بڑی آسانی سے پورا کر سکتے ہو۔کیونکہ تمہاری محنت اور کمائی کے نتیجہ میں ہی روپیہ پیدا ہو گا اور پھر وہی روپیہ تبلیغ اسلام کے کام آئے گا۔اگر تم دیانتداری کے ساتھ محنت کرو تو نہ صرف تمہاری اس محنت کا تمہیں بدلہ ملے گا بلکہ انجمن تمہارے روپیہ سے جو تبلیغ کرے گی اُس کے ثواب میں بھی تم حصہ دار ہو گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کسی کے مال کو تقسیم کرتا ہے اور دیانتداری اور انصاف سے کرتا ہے اُسے صدقہ دینے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔2 پس بیشک انجمن کو بھی ثواب ہو گا لیکن تمہیں بھی ثواب ہو گا۔اس لیے بھی کہ تمہارے روپیہ سے انجمن نے تبلیغ کی، اور اس لیے بھی کہ تم نے خود تبلیغ اسلام کے لیے چندہ دیا، اور اس لیے بھی کہ تم نے اچھی نگرانی کی اور محنت سے کام کیا۔گویا تمہیں تین ثواب ملیں گے۔پہلا ثواب انجمن کے ثواب سے ملے گا، دوسرا ثواب تمہارے اپنے چندہ کی وجہ سے ملے گا اور تیسرا ثواب تمہیں اس لیے ملے گا کہ تم نے فصلوں پر محنت کی اور اچھی نگرانی کر کے سلسلہ کے مال کو بڑھایا۔اور کسی کو تین گنا ثواب مل جانا تو ایک ٹوٹ ہوتی ہے۔اگر تمہارے پاس ایک سو روپیہ ہو جو اگلے سال تین سو ہو جائے، اُس سے اگلے سال