خطبات محمود (جلد 34) — Page 69
$1953 69 69 خطبات محمود سمجھ میں آئیں۔آخر آپ پر معاً ایمان لانے والے چار ہی آدمی تھے۔حضرت ابو بکر، حضرت خدیجہ ، حضرت علی ، اور حضرت زید بعد میں کروڑوں اور اربوں لوگ مسلمان ہوئے۔اور کروڑوں اور کی اربوں سے چار کی نسبت ہی کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے ایک ماہ مجاہدہ کیا۔کسی نے دو ماہ کی مجاہدہ کیا۔کسی نے چار ماہ مجاہدہ کیا۔کسی نے ایک سال تک مجاہدہ کیا۔کسی نے دوسال تک مجاہدہ کیا اور کسی نے دس سال تک مجاہدہ کیا اور پھر اسلام قبول کیا۔بلکہ ایسے لوگ بھی تھے جو 20, 20 سال تک رسول کریم ﷺ کا مقابلہ کرتے رہے اور آپ کی وفات کے قریب ایمان لائے اور ایسے لوگ کی بھی تھے جو آپ کی وفات کے بعد ایمان لائے۔ان لوگوں کو اتنے بڑے مجاہدوں کے بعد صداقت ملی۔مگر ہمیں یہ مجاہدہ نہیں کرنا پڑا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک مسلمان باپ کی پیٹھ اور ایک مسلمان کی ماں کے رحم میں ڈالا اور دنیا میں ہمیں لا الہ الا الله مَحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہنے والوں کے گھر میں پیدا کر دیا۔پھر ہماری عقل کامل ہوئی تو اُس نے ہماری راہنمائی فرما دی کہ جو کچھ ماں باپ نے تمہیں بتایا تھا وہ درست تھا۔پس ہمارے لیے صرف اتنی بات رہ گئی کہ ہم اس پر عمل کریں۔لیکن افسوس ہے کہ با وجود اتنے بڑے فضل کے انسان خدا تعالیٰ کی طرف بھاگنے کی بجائے غیروں کی طرف بھاگتا ہے۔اگر ی وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو کہتا ہے۔ہائے ! فلاں ہوتا تو میری مدد کرتا۔اسی طرح اگر خوشی ہوتی ہے تو وہ غیروں کی طرف جاتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جاتا۔لیکن ایک سچے مومن کو جب خوشی نصیب ہوتی ہے تو وہ بجائے ہائے اماں ! یا ہائے ابا ! کہنے کے سجدوں میں گر جاتا ہے اور سب سے پہلی خبر خدا تعالیٰ کو دیتا ہے۔خدا تعالیٰ بے شک عالم الغیب ہے۔لیکن فطرت کہتی ہے کہ تم پہلے خدا تعالیٰ کو یہ خوشی کی خبر بتاؤ اور فور اسجدہ میں گر جاؤ۔اگر کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہو، اُسے ترقی ملے یا اُسے کوئی اچھا کام کرنے کی توفیق ملے تو وہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کو بتائے اور اس کا شکر ادا کرے اسی طرح اسے رنج پہنچے تو وہ فوراً اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہے۔یعنی اگر مجھ پر مصیبت آگئی ہے۔تو بقول پنجابی بزرگوں کے ملا دی دوڑ مسیت تک میں نے تو خدا تعالیٰ کی طرف ہی جانا ہے۔یہ طبعی چیز ہے جو ہماری صحت مند فطرت میں پائی جاتی ہے۔