خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 44

$1953 44 44 خطبات محمود شورش ہوئی تو کیا جماعت طاقت رکھتی ہے کہ اُس شورش کا مقابلہ کرے۔پھر اس مقابلہ کے لیے انہوں نے کیا سکیم تیار کی ہے۔یہ باتیں ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔بہر حال تم یہ سمجھ لو کہ کسی احمدی نے اپنی جگہ کو نہیں چھوڑنا۔تمہارا اپنے گاؤں یا اپنے شہر میں اچانک مرجانا یا لڑتے ہوئے مارے جانا تمہارے وہاں سے آجانے سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔اگر کسی احمدی نے اپنی جگہ چھوڑی تو ہمیں اُس سے کوئی ہمدردی نہیں ہوگی۔مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے اتنی تعداد میں قتل ہونے کی وجہ ہی یہی تھی کہ انہوں نے اپنی جگہوں کو چھوڑ دیا۔اگر وہ میری بات مان لیتے اور اپنی جگہوں کو نہ چھوڑتے تو اس قدر قتل و غارت نہ ہوتی۔بے شک بعد میں امن ہو جانے پر ہجرت کر لیتے۔ہجرت ہم نے بھی کی۔لیکن چونکہ ہم نے قادیان کو فتنہ کے وقت چھوڑا نہیں اس لیے ہم امن ہونے پر خیریت سے یہاں آگئے۔پس یادرکھو کہ اگر آپ لوگوں نے اپنی جگہ چھوڑیں تو ہمیں آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہو گی۔یہ نہیں کہ تم اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آ جاؤ اور پھر دریافت کرو کہ اب ہم کیا کریں اگر ایسا ہوا تو ہم یہی کہیں گے کہ جس شخص کے مشورہ پر تم نے یہ فعل کیا ہے اُس سے اب بھی مشورہ لو۔ہم تو صرف ایک بات جانتے ہیں کہ مومن منظم ہوتا ہے۔وہ سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ہوتا ہے۔سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار کو کوئی تو ڑ نہیں سکتا۔اگر وہ ٹوٹتی ہے تو اکٹھی ٹوٹتی ہے۔پس تم اپنی جگہ کو ای مت چھوڑو۔آپس میں مشورہ کرو اور مرکز میں اپنی تجاویز پہنچاؤ۔تم اندازہ لگاؤ کہ کس حد تک گورنمنٹ کے حکام تمہاری حفاظت کرنے کے لیے تیار ہیں۔اور اگر کوئی کمزوری باقی رہ جاتی ہے تو سوچو کہ دشمن کے حملہ کی صورت میں جماعت کیا کرے گی۔مثلاً کیا وہ محلہ میں ایک جگہ جمع ہے ہو جائے گی۔یا کونسی صورت ہے جسے وہ اختیار کرے گی۔پھر جو مشورے ہوں انہیں یہاں لے کر آؤ۔ڈاک کے ذریعہ اطلاع بھیجنا فضول اور لغو ہے۔ڈاکخانے ہماری ڈاک ضائع کر دیتے ہیں۔محکمہ ڈاک کے بعض ملازمین اتنے بے ایمان ہیں کہ وہ روٹیاں تو سرکار کی کھاتے ہیں اور نو کر احرار کے ہیں۔اگر آپ لوگوں کی ڈاک پہنچ بھی گئی تو پھر غالبا مرکز کا مشورہ جماعت تک نہیں پہنچے گا۔جماعتوں کے نمائندے خود آئیں اور ناظر صاحب امور عامہ اور ناظر صاحب دعوة وتبلیغ سے مشورہ کریں۔اور پھر اُس مشورہ پر عمل کریں اور دعائیں کریں۔